جیفرے ایپسٹین کے سائنسدانوں سے کس نوعیت کے تعلقات تھے؟ جاری دستاویزات میں نئے انکشافات

بدھ 4 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حال ہی میں محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کیے گئے 3 ملین سے زائد صفحات پر مشتمل جیفرے ایپسٹین کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مشہور فنانسر اور بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم کے مرتکب ایپسٹین نے سائنسی حلقے سے روابط قائم کرنے کی کوشش کی۔

ان دستاویزات میں سائنٹفک امریکن نامی معروف سائنسی جرنل کے حوالے کم از کم 260 مرتبہ دیکھے گئے، جبکہ نیشنل جیوگرافک تقریباً 200 دستاویزات میں شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیے: بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین سے روابط ثابت ہونے پر ورلڈ اکنامک فورم کے سربراہ عہدے سے مستعفی

ایپسٹین اور اس کی سابقہ ساتھی گیسلین میکس ویل نے سائنس میگزین سیڈ کے بورڈ میں بھی جگہ لی تھی، جس کا ذکر 78 دستاویزات میں آیا۔ اس کے علاوہ، کئی معروف سائنسدان جیسے اسٹیفن ہاکنگ، لیسا رینڈل، جارج چرچ، ڈینی ہلس، مارٹن نوواک، لارنس کراس، نیتھن وولف ایپسٹین کے ساتھ کسی نہ کسی طور جڑے رہے۔ کوئی بھی سائنسدان ایپسٹین کے ساتھ تعلقات کے لیے مجرمانہ طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔

ڈاکٹر رینڈل کے مطابق، وہ ایپسٹین کے ذاتی اور مالی تعاون سے متاثر نہیں ہوئیں۔ اسی طرح، ڈینی ہلس، مارٹن نوواک اور دیگر سائنسدانوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایپسٹین کا سائنٹفک امریکن کے ادارتی مواد پر کوئی اثر نہیں تھا۔

دستاویزات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایپسٹین نے سائنسدانوں کے ساتھ متعدد پیشکشیں کیں، جن میں مصنوعی ذہانت، بایو سائنس اور حتیٰ کہ نسلی سائنس جیسے متنازع موضوعات شامل تھے۔ ایپسٹین نے سائنسدانوں کو مالی امداد بھی فراہم کی، جس میں ہارورڈ یونیورسٹی، ایم آئی ٹی اور سانٹا فی انسٹی ٹیوٹ شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیے: کنسپیریسی تھیوری اور ایپسٹین فائلز     

سائنٹفک امریکن کے سابق ایڈیٹر ماریئٹ ڈی کرِسٹینا نے واضح کیا کہ ایپسٹین نے کبھی بھی میگزین کی اشاعت یا انتخاب میں مداخلت نہیں کی، اور اس کے دورے صرف سیکھنے اور تحقیق کے مقصد کے لیے تھے۔

ایپسٹین 2019 میں وفاقی جیل میں انتقال کر گئے، لیکن ان کے سائنسدانوں اور میڈیا کے ساتھ تعلقات کے اثرات آج بھی زیرِ بحث ہیں، اور یہ معاملہ سائنس اور اخلاقیات کے دائرے میں اہم سوالات کھڑا کر رہا ہے۔

یہ دستاویزات متعدد سائنسدانوں کا ذکر کرتی ہیں، تاہم اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ لازماً ایپسٹائن کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے یا ان سے آگاہ تھے۔ تعلیمی اور اخلاقی نقطہ نظر سے ان سائنسدانوں کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp