ورلڈ اکنامک فورم کے صدر اور سی ای او بورجے برینڈے نے جمعرات کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ قدم اس کے بعد اٹھایا گیا جب ایپسٹین فائلز سامنے آئیں اور فورم نے ان کے امریکی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات کی آزادانہ تحقیقات کی۔ برینڈے 2017 سے فورم کے صدر تھے۔
WEF CEO Borge Brende plotting with Jeffrey Epstein to position WEF as the global governance structure
It should be called “Epstein’s Great Reset” henceforth pic.twitter.com/kDwjuRhgU0
— Jesse Matchey (@JesseMatchey) February 5, 2026
امریکی محکمہ انصاف نے بتایا کہ برینڈے نے ایپسٹین کے ساتھ 3 کاروباری ڈنرز کیے اور ای میل و میسج کے ذریعے بات چیت بھی کی۔ برینڈے نے کہا کہ وہ ایپسٹین کے مجرمانہ ماضی سے لاعلم تھے اور چاہتے تھے کہ یہ معاملہ فورم کے کام کی توجہ نہ ہٹائے۔
ورلڈ اکنامک فورم کے قیادت نے کہا کہ آزادانہ تحقیقات میں کوئی نئی تشویش سامنے نہیں آئی۔ برینڈے نے تسلیم کیا کہ وہ زیادہ کھلے انداز میں نہیں رہے اور ایپسٹین کے ساتھ تعلقات پر وضاحت نہیں دی۔
یہ بھی پڑھیں:بل گیٹس نے جیفری ایپسٹین سے تعلق کو ’بڑی غلطی‘ قرار دیدیا، فاؤنڈیشن عملے سے معذرت
عارضی طور پر فورم کے سی ای او کے عہدے پر آلوئس زونگی کام کریں گے۔ برینڈے نے اپنے 8 سالہ عرصے کو مفید اور کامیاب قرار دیا اور فورم کی ترقی میں کردار ادا کرنے کا اعتراف کیا۔
ایپسٹین فائلز اور برینڈے کے تعلقات نے عالمی کاروباری اور سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کی اور فورم کے کام پر غیر ضروری توجہ مرکوز کرنے کا خدشہ بڑھا دیا۔














