وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سربراہی میں پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں اور نمائندوں کا اہم اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں شروع ہو گیا ہے۔
اجلاس میں وزیراعظم نے پارلیمانی رہنماؤں کو پاکستان اور افغانستان کے موجودہ حالات اور خطے میں حالیہ کشیدگی، خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور خلیج میں تناؤ کے حوالے سے اعتماد میں لیں گے۔
اجلاس کے دوران پارلیمانی رہنماؤں کو تفصیلی بریفنگ بھی دی جارہی ہے، جس میں حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کی سفارتی کوششوں اور اقدامات کو اجاگر کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کیا، تنازع بات چیت سے حل ہو سکتا تھا: اسحاق ڈار
اس بریفنگ کا مقصد پارلیمانی قیادت کو ملکی خارجہ پالیسی اور خطے میں پیدا شدہ حالات کے بارے میں مکمل آگاہی فراہم کرنا ہے۔
اجلاس میں سینیٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی، ڈپٹی چیئرمین سینٹ سیدل خان، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ، ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سمیت مختلف وفاقی وزراء اور پارلیمانی رہنما شریک ہیں۔
دیگر شرکا میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جمعیت علماء اسلام ف کے رہنما مولانا فضل الرحمن، استحکام پاکستان پارٹی کے عبدالعلیم خان، بلوچستان عوامی پارٹی کے خالد حسین مگسی، متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار، فیصل سبزواری اور سید مصطفیٰ کمال شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان ایران کی موجودہ صورتحال کو قریب سے مانیٹر کر رہا ہے، اسحاق ڈار
اس کے علاوہ پی ایم ایل ق کے چودھری سالک حسین، وزیراعظم کے مشیر رانا مبشر اقبال اور رانا ثنا اللہ خان، اسپیشل اسسٹنٹ طلحہ برکی، سینیٹرز شیریں ریحمان، انور الحق کاکڑ، منظور احمد کاکڑ، پاکستان مسلم لیگ ن کے پرویز رشید اور دیگر اراکین قومی اسمبلی بھی اجلاس میں شریک ہیں۔
اجلاس میں تمام شرکا کو ملکی اور بین الاقوامی صورتحال پر دی جانیوالی بریفنگ کا مقصد تاکہ پارلیمانی رہنماؤں کو مشترکہ قومی موقف تیار کرنے میں مدد مل سکے۔













