نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے تھے اور ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر آمادگی ظاہر کرچکا تھا، تاہم اسی دوران ایران پر حملہ کردیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے اس کارروائی کی فوری اور دوٹوک الفاظ میں مذمت کی۔
سینیٹ میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا پاکستان نے ایران کے جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے حق کی حمایت کی، جبکہ امریکا ایران کے ایٹمی پروگرام کے مکمل خاتمے کا خواہاں تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سفارتی سطح پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ ایران کو پرامن جوہری پروگرام جاری رکھنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے خلاف جنگ کا مقصد اسرائیل کا اثر و رسوخ پاکستانی سرحد تک لانا ہے، خواجہ آصف
اسحاق ڈار نے ایوان کو بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات عمان کی ثالثی میں جاری تھے اور امید پیدا ہوچکی تھی کہ معاملات افہام و تفہیم سے حل ہو جائیں گے۔ پاکستان اس عمل میں معاونت کے لیے تیار تھا اور اسلام آباد کو ممکنہ مذاکراتی مقام کے طور پر بھی پیش کیا گیا تھا۔
ہم سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے میں ہیں اُسی کے تحت میں نے فورا ایران میں رابطہ کیا، انہوں نے کہا ہمیں ضمانتیں دیں، سعودیہ سے کہیں ان کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو جس کی میں نے گارنٹی لے کر دی اور آپ دیکھیں باقی تمام ممالک کے برعکس سعودی عرب پر سب سے کم کارروائی ہوئی، وزیر… pic.twitter.com/G9A1uu8q4U
— WE News (@WENewsPk) March 3, 2026
انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت پاکستان کی کوششوں سے پوری طرح آگاہ ہے۔ جب پاکستان کے پاس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت تھی، تب بھی امریکا اور ایران کے معاملے پر متعدد مباحثے کرائے گئے۔ 28 فروری کو پاکستان نے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے میں کردار ادا کیا اور حملے کی مذمت کرتے ہوئے سفارتی حل پر زور دیا۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 12 برس بعد سلامتی کونسل میں اتفاق رائے سے قرارداد منظور ہونا پاکستان کی فعال سفارتکاری کا نتیجہ ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کشیدگی کے اثرات بلوچستان تک پہنچ گئے، ایندھن سمیت اشیا خورونوش کی قلت کا خدشہ
اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران پر حملے کی خبر سامنے آتے ہی پاکستان نے 15 منٹ کے اندر مذمتی بیان جاری کیا۔ ان کے مطابق پاکستان واحد ملک تھا جس نے کھلے انداز میں اس اقدام کی مخالفت کی، جس پر ایرانی پارلیمنٹ میں ’تشکر پاکستان‘ کے نعرے بھی سننے میں آئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کو پاکستان عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی سمجھتا ہے، اور وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس پر سخت ردعمل دیا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی میں بعض خلیجی ممالک متاثر ہوئے، تاہم سعودی عرب اور عمان کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ پاکستان نے دونوں ممالک کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کی ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: ایران پر حملے میں سعودی عرب کے کردارکی خبریں جھوٹ ہیں، احمد حسن العربی
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی عسکری محاذ آرائی کا حصہ نہیں بننا چاہتا بلکہ سفارتکاری ہی کو واحد قابل عمل راستہ سمجھتا ہے۔ اس ضمن میں وہ یورپی یونین سمیت 13 ممالک کی قیادت سے رابطہ کر چکے ہیں۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ ان کا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے براہ راست اور غیر رسمی رابطہ برقرار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مسلسل مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے عمان کے وزیر خارجہ سے بھی گفتگو کی اور دیگر علاقائی رہنماؤں سے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا۔
ان کے مطابق پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں وقتی نہیں بلکہ تسلسل کے ساتھ جاری ہیں اور حکومت پارلیمانی قیادت کو بھی اعتماد میں لے رہی ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
مزید پڑھیں: ایران جنگ کو طوالت دینا، جبکہ امریکا اور اِسرائیل جلد اس کا خاتمہ چاہتے ہیں: سفارتکار نائلہ چوہان
وزیر خارجہ نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ حالیہ دنوں میں جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہیں اور تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر واپس آنا ہوگا۔
پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ مسئلے کا حل صرف بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے ممکن ہے، اور اسلام آباد اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔














