’رلی‘ سندھ کی صدیوں پر محیط تہذیبی شناخت اور معاشی وقار

بدھ 4 مارچ 2026
author image

عبدالستار مغیری

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ کی سرزمین محض جغرافیہ نہیں، ایک زندہ تہذیب ہے، یہاں کی مٹی سے تاریخ کی خوشبو آتی ہے اور اس کے رنگوں میں صدیوں کی روایتیں سانس لیتی ہیں۔ انہی روایتوں میں ایک معتبر نام ’رلی‘ کا ہے، جو رنگ برنگے کپڑوں کے ٹکڑوں سے جڑی دلکش چادر ہے، یہ صرف بستر کی زینت نہیں، بلکہ سندھ کی ثقافتی پہچان اور نسوانی ہنرمندی کی علامت ہے۔

رلی کو اگر سندھ کی تہذیب کا استعارہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، یہ وہ فن ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا آ رہا ہے، جس میں ماں کی دعائیں، بیٹی کے خواب اور بہنوں کی محبت سلی ہوتی ہے۔ رلی کی تیاری محض سلائی کا عمل نہیں، بلکہ صبر محبت اور روایت کی مسلسل مشق ہے۔

تاریخی شواہد اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ وادیٔ سندھ کی تہذیب خصوصاً موہنجوداڑو ٹیکسٹائل اور رنگائی کے فن میں غیر معمولی مہارت رکھتی تھی۔ آثار قدیمہ سے ملنے والے رنگائی کے حوض بُنت کے اوزار اور کانسی کی سوئیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس خطے میں کپڑے کی تیاری ایک باقاعدہ صنعت تھی۔ ماہرین کے مطابق یہاں سے ملنے والا مدر (Madder) سے رنگا کپڑا دنیا کی قدیم ترین رنگائی کی مثالوں میں شمار ہوتا ہے۔

آج بھی سندھ کی رلیوں میں وہی شوخ رنگ وہی جیومیٹریائی ڈیزائن اور وہی پرندوں اور سورج کی علامتیں دکھائی دیتی ہیں جو قدیم مہروں اور برتنوں پر کندہ تھیں۔ گویا رلی ماضی اور حال کے درمیان ایک مضبوط پل ہے۔

سندھ کے دیہی علاقوں خصوصاً تھرپارکر، بدین، حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ میں آج بھی رلی ہاتھ سے تیار کی جاتی ہے۔ ایک معیاری رلی کی تیاری میں عموماً ایک سے 2 ماہ لگتے ہیں۔ اس دوران خواتین نہایت باریک بینی سے کپڑے کے مختلف ٹکڑوں کو جوڑتی، سیتی اور ڈیزائن ترتیب دیتی ہیں۔ یہ محنت محض کاریگری نہیں، بلکہ جذباتی وابستگی بھی ہے۔ اکثر گھروں میں رلی بیٹی کے جہیز کا حصہ بنتی ہے۔ کہیں یہ نومولود کے لیے دعا بن کر تیار ہوتی ہے، تو کہیں ماں اپنی بیٹی کو یہ فن سکھاتے ہوئے اسے صبر اور تخلیق کا درس دیتی ہے۔ یوں رلی میں خاندان کی محبت اور رشتوں کی حرارت بھی شامل ہو جاتی ہے۔

رلی رنگوں کی زبان اور علامتی پیغام بھی ہے اس کے رنگ محض آرائش کے لیے نہیں ہوتے، بلکہ ہر رنگ ایک معنی رکھتا ہے۔

سرخ؛  زندگی اور خوشی کی علامت۔

نیلا ؛ وسعت اور سکون کا استعارہ۔

سبز؛  زرخیزی اور امید۔

کالا؛  تحفظ اور استحکام کی نشانی۔

یہ رنگ صدیوں سے قدرتی ذرائع نیل مدر ہلدی اور مہندی سے حاصل کیے جاتے رہے ہیں، اسی لیے رلی کا حسن فطری اور پائیدار محسوس ہوتا ہے۔

رلی نہ صرف ثقافتی ورثہ ہے بلکہ دیہی خواتین کے لیے معاشی خودمختاری کا ذریعہ بھی بن چکی ہے۔ موجودہ مارکیٹ میں ایک معیاری ہاتھ سے بنی رلی تقریباً 15 سے 20 ہزار روپے تک فروخت ہوتی ہے۔ جبکہ نفیس اور خصوصی آرڈر پر تیار کی جانے والی رلیاں اس سے زیادہ قیمت بھی حاصل کرتی ہیں۔ خصوصاً جب انہیں قومی یا بین الاقوامی نمائشوں میں پیش کیا جائے۔

اگر اس صنعت کو سرکاری سرپرستی اور مؤثر مارکیٹنگ میسر آئے تو یہ نہ صرف ہزاروں دیہی خواتین کو روزگار فراہم کر سکتی ہے، بلکہ پاکستان کے ثقافتی تشخص کو عالمی سطح پر بھی اجاگر کر سکتی ہے۔ آن لائن پلیٹ فارمز اور دستکاری میلوں میں رلی کی بڑھتی ہوئی مانگ اس امر کا ثبوت ہے کہ دنیا آج بھی ہاتھ کی بنی اشیاء کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

مشینوں کے اس دور میں بھی رلی کا اصل حسن انسانی ہاتھ کی محنت میں پوشیدہ ہے۔ مشینی پیداوار رفتار تو دے سکتی ہے، مگر وہ جذبات اور نفاست پیدا نہیں کر سکتی جو ہاتھ کی سلائی میں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ کی عورتیں اس فن کو پوری محبت سے آنے والی نسلوں تک منتقل کر رہی ہیں۔

رلی دراصل سندھ کی تہذیبی چادر ہے وہ چادر جو وقت کی گرد جھاڑ کر آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے، یہ صرف کپڑے کے ٹکڑوں کا امتزاج نہیں، بلکہ تاریخ محبت اور محنت کا سنگم ہے۔ اگر کہا جائے کہ رلی سندھ کا دل ہے تو مبالغہ نہ ہوگا، کیونکہ جب تک یہ رنگین چادر بنتی اور سیتی رہے گی، تب تک سندھ کی تہذیب کی دھڑکن بھی قائم رہے گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp