سری لنکا میں گالے بندرگاہ کے قریب ایرانی بحریہ کا جنگی جہاز ڈوب جانے کے بعد ایک وسیع ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سری لنکا کی وزارت دفاع نے بتایا کہ جہاز پر تقریباً 180 افراد سوار تھے جن میں سے 140 ابھی تک لاپتا ہیں۔
مزید پڑھیں: خلیج عمان میں ایرانی ہیلی کاپٹر نے امریکی بحری جہاز کو وارننگ کیوں دی؟
وزارت دفاع کے بیان کے مطابق 30 افراد کو بحفاظت سمندر سے نکالا گیا اور زخمی ہونے کے باعث انہیں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ سری لنکن حکام کا کہنا ہے کہ بحریہ اور فضائیہ مشترکہ طور پر تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
زخمیوں میں کچھ کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں اور دیگر کو جلنے کے زخم یا خراشیں آئی ہیں۔ اسپتال ذرائع کے مطابق چند زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
حادثے کا شکار جہاز، ایرانی بحریہ کے 86ویں بیڑے کا حصہ ’آئی آر آئی ایس دینا‘ تھا، جو مکمل طور پر ایرانی ساختہ ہے۔ یہ جہاز نور اور قدر اینٹی شپ میزائلوں سے لیس ہے، اس کی لمبائی تقریباً 95 میٹر اور وزن قریباً 1500 ٹن ہے، جبکہ اس میں 76 ایم ایم فجر 27 نیول گن اور 30 ایم ایم ہتھیار نصب ہیں۔
2022 سے 2023 کے دوران یہ جہاز قریباً 65 ہزار کلومیٹر کا عالمی بحری سفر کر چکا ہے اور اسے ایرانی بحری طاقت کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔
سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے پارلیمان کو بتایا کہ آج صبح جہاز سے ہنگامی سگنل موصول ہوئے، جس کے فوراً بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ تاہم جہاز کے ڈوبنے کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں کی گئیں۔
مزید پڑھیں: ایرانی فوج کا ایک اور اسرائیلی ایف 35 جہاز گرانے اور پائلٹ کی گرفتاری کا دعویٰ
اپوزیشن کے ایک رکن نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ حادثہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں پیش آیا، جس پر حکومت کی جانب سے فی الحال کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا گیا۔
بھارتی بحریہ کی مشرقی کمان کے مطابق، آئی آر آئی ایس دینا خطے میں بحری مشق ’آئی آر ایف اینڈ میلان 2026‘ میں حصہ لینے کے لیے موجود تھا۔














