پی ٹی آئی نے ماضی میں کون سے اہم حکومتی اجلاسوں میں دعوت کے باوجود شرکت نہیں کی؟

بدھ 4 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت کی جانب سے خطے میں جنگ، قومی سلامتی اور دہشتگردی کی بگڑتی صورتحال پر منعقد کیے گئے اہم اجلاس میں دعوت کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کی شرکت نہیں کی۔

گزشتہ عرصے کے دوران کم از کم 8 اہم سیکیورٹی اور حساس نوعیت کے اجلاس ایسے ہو چکے ہیں جن میں پی ٹی آئی کو باضابطہ طور پر مدعو کیا گیا تاہم پارٹی نے ان میں شرکت نہیں کی۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا عمران خان سے ملاقات تک وزیراعظم کی جانب سے بلائے گئے اجلاس میں شرکت سے انکار

وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کہتے ہیں کہ پی پی ٹی آئی کو آج بریفنگ میں شرکت کرکے قومی اتحاد کا پیغام دینا چاہیے تھا، اپوزیشن کے لیے پاکستان اور اس کے مسائل سے زیادہ عمران خان کی اہمیت ہے، یہ رویہ انتہائی افسوسناک ہے۔

آج وزیراعظم آفس میں سیکیورٹی صورتحال پر ان کیمرہ بریفنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں پارلیمانی قیادت کو حساس امور پر اعتماد میں لیا جانا تھا۔ اس موقع پر بھی پی ٹی آئی کو دعوت دی گئی، لیکن پارٹی نے شرکت نہیں کی۔

گزشتہ سال جعفر ایکسپریس سانحہ کے بعد مارچ میں قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں پاکستان تحریک انصاف نے شرکت نہیں کی تھی۔

اس موقع پر دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور تجزیہ کاروں نے کہا تھا کہ موجودہ صورت حال میں سیاست کو دہشتگردی سے الگ رکھ کر ملک کو بالاتر رکھنا چاہیے۔

گزشتہ سال بھارت کے ساتھ جنگ کے بعد بھی قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، تنیوں مسلح افواج کے سربراہان اور وفاقی وزرا نے شرکت کی تھی، تاہم پی ٹی آئی نے اس اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔

گزشتہ سال مئی میں بھی ایران کے ایٹمی پروگرام پر حملوں کے بعد وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں خطے کی بدلتی صورتحال اور ایران پر اسرائیلی حملے کے حوالے سے غور کیا گیا جبکہ ایران کے خلاف جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی تھی، اس اجلاس میں بھی پی ٹی آئی نے شرکت نہیں کی تھی۔

دہشتگردی کی تازہ لہر پر پارلیمانی جماعتوں کا خصوصی اجلاس بھی طلب کیا گیا تھا، جس میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو دعوت دی گئی تھی اور پی ٹی آئی کو اس اجلاس میں بھی مدعو کیا گیا، لیکن پارٹی قیادت شریک نہ ہوئی تھی۔

انسداد دہشتگردی سے متعلق قومی ایکشن پلان پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس میں بھی پی ٹی آئی کو مدعو کیا گیا تھا، تاہم اس میں بھی شرکت نہیں کی گئی۔

گزشتہ سال بھی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کا ایک ان کیمرہ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں حساس نوعیت کی بریفنگ دی گئی۔ پی ٹی آئی کو اس اجلاس میں بھی دعوت دی گئی تھی لیکن وہ شریک نہ ہوئی۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی میں اقتدار کی کشمکش شدت اختیار کر گئی، جماعت کے اندر متعدد پاور سینٹرز فعال

سینیئر صحافی صالح ظافر نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پی ٹی آئی پر تنقید کی اور کہاکہ شور مچانے اور دوسروں کو گالیاں دینے کے علاوہ ان لوگوں کی دلچسپی کسی اور چیز میں نہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ تاریخ میں کئی اہم اجلاس ہوئے، جن میں ایک ایسا بھی تھا جب پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ جاری تھی۔ ایسے وقت میں پارلیمنٹ کے ممبران کے لیے اجلاس میں شریک ہونا فرض تھا۔ اگر کوئی رکن ایسے قومی یا جنگی معاملے میں شریک نہیں ہوتا، تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی ہمدردیاں، سوچ اور توجہ کسی اور سمت میں ہیں اور وہ ملک یا عوام کے مفاد کے بارے میں نہیں سوچ رہا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کراچی: ٹریلر کی ٹکر سے 2 بھائی جاں بحق، ڈرائیور سی سی ٹی وی کی مدد سے گرفتار

بنگلہ دیش حکومت پارلیمنٹ سے مثبت سیاسی کلچر فروغ دینا چاہتی ہے، وزیر داخلہ صلاح الدین احمد

ایران نے ہرمز میں بھارت جانے والے تجارتی جہاز پر حملے کی تصدیق کر دی

ایران میں لڑکیوں کے اسکول پر مہلک حملے کی ذمہ دار امریکی فوج قرار، امریکی اخبار

پی سی بی نے ایچ بی ایل پی ایس ایل 2026 کے لیے میڈیا ایکریڈیٹیشن کی شرائط جاری کردیں

ویڈیو

دنیا اتنی بری نہیں جتنی ہماری منفی سوچ اسے بنا دیتی ہے

ایران، امریکا، اسرائیل جنگ، پاکستان نے بھی آپریشن شروع کردیا، عید سے پہلے عمران خان کی رہائی؟

5جی اسپیکٹرم کی نیلامی: کیا انٹرنیٹ کے مسائل ختم ہوجائیں گے؟

کالم / تجزیہ

ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی افغان طالبان کے لیے نئی مصیبت

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے