پی ٹی آئی میں اقتدار کی کشمکش شدت اختیار کر گئی، جماعت کے اندر متعدد پاور سینٹرز فعال

جمعرات 26 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

پاکستان تحریک انصاف اندرونی اختلافات اور دھڑے بندی کا شکار دکھائی دے رہی ہے، جہاں مختلف گروپس اپنی اپنی حکمتِ عملی اور بیانیے کے ساتھ متحرک ہیں۔ مبصرین کے مطابق جماعت کے اندر قیادت، پالیسی اور سیاسی سمت کے حوالے سے ابہام نے کارکنوں کو بھی کنفیوژن میں مبتلا کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:تحریک تحفظ آئین پاکستان کا عمران خان کے فوری علاج اور رہائی کا مطالبہ، سیاسی و معاشی صورتحال پر شدید تحفظات

پارٹی کے اندر اس وقت کئی نمایاں دھڑے سامنے آ چکے ہیں۔ ایک حلقہ علیمہ خان کے گرد منظم دکھائی دیتا ہے جسے خاندانی اثر و رسوخ کا حامل گروپ قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسرا دھڑا خیبر پختونخوا حکومت اور پارلیمانی سیاست سے جڑا ہوا ہے، جس کی قیادت وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے پاس سمجھی جاتی ہے۔ تیسرا گروپ بیرسٹر گوہر اور پارلیمانی قیادت کے گرد موجود ہے، جب کہ ایک نظریاتی و سوشل میڈیا سے وابستہ حلقہ بھی اپنی الگ شناخت رکھتا ہے۔

بیانیے اور حکمتِ عملی میں اختلاف

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جماعت کے اندر مفاہمتی سیاست کے حامی رہنما اور مزاحمتی بیانیے پر قائم سخت گیر عناصر آمنے سامنے دکھائی دیتے ہیں۔ جیل میں موجود بانی سے منسوب ہدایات پر عمل کرنے والا کور گروپ اپنی الگ سمت اختیار کیے ہوئے ہے، جبکہ صوبائی حکومت اور پارلیمانی مفادات کو ترجیح دینے والے رہنما مختلف حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پارٹی کے خلاف چارج شیٹ، کیا علیمہ خان پی ٹی آئی قیادت کے ہاتھ سے نکل گئیں؟

پارٹی کے اندر متعدد پاور سینٹرز کے قیام سے کارکنوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ کئی کارکن ایک واضح قیادت، مشترکہ بیانیہ اور متحد حکمتِ عملی کے منتظر ہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں اندرونی کشمکش اور گروہی سیاست نمایاں نظر آ رہی ہے۔

سیاسی مستقبل پر اثرات

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر قیادت کے مابین ہم آہنگی پیدا نہ کی گئی تو یہ تقسیم پارٹی کی مجموعی سیاسی طاقت کو متاثر کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی بڑی جماعت کے لیے متحدہ قیادت اور واضح سمت ناگزیر ہوتی ہے، بصورت دیگر اندرونی اختلافات مرحلہ وار کمزوری کا سبب بن سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

دنیا کے تیز ترین موٹرائزڈ لکڑی کے جوتے نے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار کا ریکارڈ قائم کردیا

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی