پاکستان نے سعودی عرب سے درخواست کی ہے کہ وہ ملک کی خام تیل کی سپلائی کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبو کے ذریعے منتقل کرنے میں مدد کرے کیونکہ ہرمز کی تنگ گزرگاہ کے ذریعے شپنگ میں رکاوٹیں جاری مشرق وسطیٰ کشیدگی کے دوران پاکستان کی ایندھن کی فراہمی کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کی بندش: تیل کی عالمی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ، فی بیرل 100 ڈالر تک بڑھنے کا امکان
یہ درخواست وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی سے ملاقات کے دوران کی۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق وزیر برائے پیٹرولیم نے سفیر نواف بن سعید المالکی کو تیزی سے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال اور اس کے عالمی توانائی مارکیٹس پر اثرات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ پاکستان کی تیل اور توانائی کی زیادہ تر سپلائی عام طور پر آبنائے ہرمز کی تنگ گزرگاہ کے ذریعے گزرتی ہے۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت روزانہ کی بنیاد پر صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ملک کی توانائی کی سپلائی چین کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے فعال اقدامات کر رہی ہے اور موجودہ حالات میں برادر ملکوں خصوصاً سعودی عرب، کی حمایت انتہائی اہم ہے۔
مزید پڑھیے: پاسداران انقلاب کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان، تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ
وزیر کے مطابق سعودی حکام نے یقین دلایا ہے کہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ینبو بندرگاہ کے ذریعے تیل کی سپلائی کو سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک جہاز کو پاکستان کی جانب ینبو سے خام تیل لے جانے کے لیے روانہ کرنے کی ضمانت دی گئی ہے اور توقع ظاہر کی کہ یانبُو سے تیل کی فراہمی پاکستان کے لیے ترجیحی ہوگی۔
علی پرویز ملک نے سعودی عرب کے تعاون پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی مدد کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے کہا کہ سعودی عرب علاقائی حالات سے پوری طرح آگاہ ہے اور ہنگامی توانائی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مضبوط تعاون جاری رکھے گا۔
انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کو بھائی ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ایک دوسرے کی ہر مشکل وقت میں مدد جاری رکھیں گے۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز کی اہمیت کیا ہے اور اسے ماضی میں کب کب بند کیا گیا؟
یہ اقدام ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اسلامی انقلابی گارڈز کے ایک سینیئر عہدیدار نے خبردار کیا تھا کہ گزرگاہ بند کر دی گئی ہے اور کوئی بھی جہاز اس سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو نشانہ بنایا جائے گا۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایبراہیم جباری، جو گارڈز کے کمانڈر ان چیف کے سینئر مشیر ہیں، نے کہا کہ ہرمز بند ہے اور انقلابی گارڈز اور بحریہ کسی بھی جہاز کو عبور کرنے کی کوشش کرنے پر نشانہ بنائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیل کے ایران پر مزید حملے، ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی منظوری دے دی
ہرمز کی تنگ گزرگاہ دنیا کے سب سے اہم تیل کے برآمدی راستوں میں شمار ہوتی ہے جو سعودی عرب، ایران، عراق اور متحدہ عرب امارات جیسے بڑے خلیجی تیل پیدا کرنے والوں کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے جوڑتی ہے۔














