مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث اتار چڑھاؤ سے بھرپور ہفتے کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو نمایاں بحالی دیکھنے میں آئی۔ بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 5,433 پوائنٹس کے اضافے کے بعد 161,211 پوائنٹس پر بند ہوا جو حالیہ سیشنز کی سب سے بڑی ایک روزہ بڑھوتریوں میں سے ایک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے پیش نظر فرانس اور جرمنی کا اعلیٰ سطحی جوہری اسٹریئرنگ گروپ کے قیام کا اعلان
اس سے قبل مارکیٹ کو تاریخی مندی کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب 2 مارچ کو انڈیکس 16 ہزار سے زائد پوائنٹس کی ریکارڈ کمی کے ساتھ گر گیا تھا۔ بعد ازاں گزشتہ چند دنوں میں جزوی بحالی اور اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا۔
جمعرات کو اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کے باعث کے ایس ای-100 انڈیکس میں 5,433 پوائنٹس (3.49 فیصد) اضافہ ہوا اور یہ 161,211 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب کے مطابق حالیہ غیر یقینی صورتحال کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آئی ہے جس کے نتیجے میں اہم شعبوں میں وسیع پیمانے پر خریداری دیکھنے میں آئی۔
ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی دلچسپی خاص طور پر آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، پاور جنریشن، سیمنٹ، آٹوموبائل، ریفائنری اور بینکنگ سیکٹرز میں دیکھی گئی جہاں کئی بڑے اسٹاک مثبت رجحان کے ساتھ ٹریڈ ہوئے۔
مزید پڑھیے: تاریخی مندی کے بعد اسٹاک مارکیٹ سنبھل گئی، انڈیکس میں 5 ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
سیکٹرل سطح پر فروری 2026 کے چوتھے ہفتے میں گیس کی پیداوار ہفتہ وار بنیاد پر 0.1 فیصد کم ہو کر 2,687 ایم ایم سی ایف ڈی رہ گئی جبکہ تیل کی پیداوار 2.9 فیصد کمی کے ساتھ 59,103 بیرل یومیہ ریکارڈ کی گئی۔ اس کمی کی بڑی وجہ شمالی فیلڈز میں پیداوار کی محدودیت اور پاور سیکٹر کی نسبتاً کمزور طلب قرار دی گئی۔
مارکیٹ میں سرگرمی بھی مضبوط رہی، جہاں مجموعی طور پر 718.6 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا جبکہ ٹرن اوور 35 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ حجم کے لحاظ سے کے الیکٹرک سرفہرست رہی، جس کے 115.6 ملین شیئرز کا لین دین ہوا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ شدید مندی کے باعث عارضی طور پر کیوں معطل کی گئی؟
اب مارکیٹ ہفتے کے آخری کاروباری سیشن کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ مثبت رجحان برقرار رہتا ہے یا حالیہ بحالی کے بعد سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کرتے ہیں۔











