پاکستان کا کیا قصور ہے؟

جمعہ 6 مارچ 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستانی معاشرہ ابھی تک امت کے تصور اور جدید نیشن اسٹیٹ کے تصور کے درمیان ہم آہنگی پیدا نہیں کر سکا، اسی لیے وہ ایک فکری الجھن کا شکار ہے۔ جب بھی کوئی بڑا علاقائی یا عالمی مسئلہ سامنے آتا ہے تو یہ الجھن ایک شدید داخلی بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد بھی یہی کیفیت دیکھی گئی اور افغانستان میں پاکستان کی فوجی کارروائیوں کے موقع پر بھی یہی تضاد پوری شدت کے ساتھ سامنے آیا۔ یہ ایک سنجیدہ فکری مسئلہ ہے جسے سمجھنا اور اس پر واضح موقف اختیار کرنا ناگزیر ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان امت مسلمہ کا ایک حصہ ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ پاکستان کے معاشرے میں امت کے ساتھ وابستگی کا ایک غیر معمولی عنصر پایا جاتا ہے اور اسی وجہ سے مسلم ممالک کے بارے میں عمومی خیرخواہی کے جذبات بھی موجود رہتے ہیں۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان ایک جدید قومی ریاست ہے جس کی اپنی سرحدیں، اپنے قومی مفادات اور اپنی ریاستی ذمہ داریاں ہیں۔

پاکستان کی ریاست کی فکری ساخت کو دیکھا جائے تو اس کی بنیاد بھی ایک منفرد اساس پر قائم ہے۔ پاکستان معروف معنوں میں صرف ایک جمہوری ریاست نہیں ہے اور نہ ہی صرف ایک روایتی مذہبی ریاست۔ پاکستان میں جمہوریت ضرور ہے لیکن یہ مغربی جمہوریت کی نقل نہیں۔ اسی طرح پاکستان ایک اسلامی ریاست بھی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہاں ملائیت کی حکمرانی ہو۔

پاکستان نے دراصل جمہوریت کا ایک ایسا اسلوب متعارف کرایا ہے جس میں عوام کی رائے اور اسلام کی اخلاقی و قانونی حدود دونوں کو ایک ساتھ جگہ دی گئی ہے۔ اس نظام میں حکومت عوام کی مرضی سے قائم ہوتی ہے اور ریاستی نظم عوامی نمائندوں کے ذریعے چلتا ہے، مگر یہ پورا نظام اسلام کے متعین کردہ دائرہ کار کے اندر رہتا ہے۔ یعنی فیصلہ سازی کا اختیار بظاہر عوام کے پاس ہے لیکن ان کے منتخب نمائندے اس اختیار کو اللہ کی امانت سمجھ کر استعمال کرنے کے پابند ہیں۔

اس طرح پاکستان کا سیاسی تصور نہ تو خالص مغربی جمہوریت ہے اور نہ روایتی مذہبی ملائیت۔ یہ دراصل ایک جدید اسلامی ریاست کا تصور ہے جس میں مذہبی اقدار اور جمہوری اصولوں کو باہم ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

جب ہم اس گرہ کو کھول کر دیکھتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ پاکستان ایک قومی ریاست بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ مسلم امت کے تصور کا داعی بھی۔ نہ یہ ممکن ہے کہ پاکستان قومی ریاست کے تقاضے پورے کرتے ہوئے امت کے تصور سے دستبردار ہو جائے اور نہ یہ ممکن ہے کہ امت کے تقاضوں کو پورا کرتے کرتے اپنے قومی مفادات اور ریاستی ذمہ داریوں کو نظر انداز کر دے۔

ان دونوں تصورات کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ اگر یہ ہم آہنگی پیدا نہ کی جا سکے تو اس کا نتیجہ لازماً ایک بحران کی صورت میں نکلتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم ابھی تک اس فکری توازن کو پوری طرح قائم نہیں کر سکے اور اسی وجہ سے ایک سنگین فکری بحران بار بار ہماری دہلیز پر دستک دیتا رہتا ہے۔

چونکہ ہمارے ہاں امت اور قومی ریاست کے تصورات کے درمیان عوامی سطح پر فکری ہم آہنگی پیدا نہیں ہو سکی، اس لیے بعض اوقات یہ صورت حال سامنے آتی ہے کہ امت کی ایک خاص تعبیر کے زیر اثر کچھ گروہ قومی ریاست کے مفادات کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو اپنی وفاداری کا اظہار پاکستان کے بجائے کسی ایک مخصوص ریاست کے ساتھ زیادہ شدت سے کر رہے ہوتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی ہمدردیاں کسی دوسری ریاست کے ساتھ وابستہ کر لیتے ہیں۔

جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی بڑھی اور پاکستان نے افغانستان میں فوجی کارروائیاں کیں تو اس موقع پر بھی امت کے اسی محدود تصور کے تحت پاکستان میں بعض حلقے خود پاکستان ہی کے خلاف بولنے لگے۔ وہ قومی ریاست کے مفادات کو سمجھنے میں ناکام رہے اور ان کی ہمدردیاں کھلے طور پر افغانستان کے ساتھ دیکھی گئیں۔

اسی طرح حالیہ دنوں میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے کے بعد بھی اسی نوعیت کی صورت حال سامنے آئی۔ پاکستان میں ایران کے ساتھ ہمدردی کے جذبات موجود ہیں اور یہ فطری بھی ہے، مگر اس کے باوجود بعض حلقے اس معاملے میں اس قدر جذباتی ہو گئے کہ انہوں نے اپنی قومی ریاست کے مفادات کو نظر انداز کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ احتجاج کے دوران املاک کو نذر آتش کیا گیا، قومی اداروں کے دفاتر جلائے گئے اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ گویا ایسے اقدامات کیے گئے جن میں پاکستان کے مفادات کو مکمل طور پر بالائے طاق رکھ دیا گیا۔

آپ غور فرمائیں کہ ایران پر جن ممالک نے حملہ کیا ان میں پاکستان کہیں شامل نہیں۔ پاکستان نے ان حملہ آوروں کے اقدام کی تائید بھی نہیں کی۔ اس کے برعکس پاکستان کی سفارتی ہمدردیاں واضح طور پر ایران کے ساتھ رہی ہیں۔ پاکستان نے کھل کر ایران کی حمایت کی ہے۔

پچھلی مرتبہ جب ایران پر حملہ ہوا تھا تو ایران کی پارلیمان میں پاکستان کی تعریف کی گئی تھی اور باقاعدہ پاکستان کا شکریہ ادا کیا گیا تھا۔ اس بار بھی اقوام متحدہ میں پاکستان نے کھل کر ایران کے مؤقف کی حمایت کی۔ پاکستان کے سیاسی قائدین نے بھی واضح الفاظ میں ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ نواز شریف نے ایران کی حمایت کی، وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی ایران کے حق میں دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔

لیکن اس کے باوجود جب ایران پر حملے کے بعد پاکستان میں احتجاج ہوا تو اس کا ہدف پاکستان ہی بن گیا۔ پاکستان کی املاک جلائی گئیں، سڑکیں بند کی گئیں، سرکاری دفاتر کو نقصان پہنچایا گیا۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ پاکستان کا قصور کیا ہے؟ پاکستان نہ تو ایران پر حملہ کرنے والوں میں شامل ہے، نہ ان کے اقدام کی تائید کر رہا ہے اور نہ ہی ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان سفارتی سطح پر ایران کے ساتھ کھڑا ہے اور عالمی فورمز پر ایران کے حق میں آواز اٹھا رہا ہے۔

اس کے باوجود بعض عناصر ایران پر حملے کے خلاف احتجاج کے نام پر پاکستان ہی کی املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ سوال پھر وہی ہے کہ پاکستان کا کیا قصور ہے کہ اس کی سڑکیں جلائی جا رہی ہیں، اس کے دفاتر توڑے جا رہے ہیں اور اس کے شہریوں کو مشکلات میں ڈالا جا رہا ہے؟ اور سوال یہ بھی ہے کہ کسی دوسرے ملک پر ہونے والے حملے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے ہی ملک کو کیوں نقصان پہنچایا جا رہا ہے؟

اس کا جواب وہی بنیادی فکری الجھن ہے جس کی طرف ابتدا میں اشارہ کیا گیا تھا۔ پاکستان کے بعض عناصر ابھی تک امت اور قومی ریاست کے تصورات کے درمیان ہم آہنگی پیدا نہیں کر سکے۔ امت کے ایک مخصوص فہم کے زیر اثر جب بھی خطے کے کسی ملک کے ساتھ کوئی بحران پیدا ہوتا ہے تو ان کی ہمدردیاں اس ملک کے ساتھ اس قدر بڑھ جاتی ہیں کہ اپنی ریاست کے مفادات، اپنی ریاست کی ذمہ داریوں اور اپنی ریاست کے ساتھ وابستگی کا احساس پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ یہی وہ فکری خلا ہے جو بار بار پاکستان کے اندر ایک غیر ضروری بحران کو جنم دیتا ہے۔

یہ دراصل امت کے اسی ناقص تصور کا نتیجہ ہے جس کے تحت پاکستان کے بعض شہری اپنی ریاست سے یہ مطالبہ کرنے لگتے ہیں کہ اگر ان کے کسی محبوب ملک کے خلاف کوئی اقدام ہوا ہے تو پاکستان اپنی سالمیت کو داؤ پر لگا کر امت کے ایک مخصوص تصور کے تحت میدان میں کود پڑے۔ ایسا مطالبہ کرتے وقت یہ بات نظر انداز کر دی جاتی ہے کہ امت کے تقاضے اپنی جگہ اہم ہیں لیکن قومی ریاست کے بھی اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔

جب قومی ریاست کے تقاضوں کی بات آتی ہے تو پھر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ جب پاکستان پر بھارت نے حملہ کیا تھا تو اس وقت ایران کا موقف کیا تھا۔ جب پاکستان کے اندر دہشتگردی کی آگ بھڑک رہی تھی تو اس وقت افغانستان کا رویہ کیا تھا۔ یعنی جب پاکستان کسی مشکل میں ہوتا ہے تو یہ سوال کم ہی اٹھایا جاتا ہے کہ امت کے دوسرے ممالک کا ردعمل کیا ہے۔

لیکن جب امت کے کسی اور ملک پر کوئی بحران آتا ہے تو پاکستان سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ میدان میں اترے، وہ لڑائی کا حصہ بنے، وہ اپنی سالمیت کو خطرے میں ڈال دے اور اپنے وجود کو خطرات میں ڈال کر آگے بڑھے۔ یہ مطالبات دراصل غیر منطقی ہیں۔

پاکستان ایک قومی ریاست ہے۔ اسے اپنے قومی مفادات کو بھی دیکھنا ہے اور اپنی سلامتی کو بھی پیش نظر رکھنا ہے۔ ساتھ ہی یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان امت مسلمہ کا حصہ ہے اور اسے امت کے مفاد کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ان دونوں تقاضوں کے درمیان ایک متوازن ہم آہنگی پیدا کی جائے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ ہم آہنگی ابھی تک واضح طور پر پیدا نہیں ہو سکی۔ اسی وجہ سے بعض اوقات ایسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے جو فساد اور فتنہ کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ پاکستانی ریاست سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ قومی ریاست کے طور پر اپنے وجود کو خطرے میں ڈال دے لیکن امت کے تصور کے ساتھ وفاداری ثابت کرے۔

یہ بات ظاہر ہے کہ عملی طور پر ممکن نہیں۔ اس مسئلے کا حل صرف یہی ہے کہ پاکستان میں فکری سطح پر اس معاملے کو سنجیدگی سے سمجھا جائے اور سمجھایا جائے کہ پاکستان نہ تو امت کے تصور کے لیے اپنی قومی ریاست کو داؤ پر لگا سکتا ہے اور نہ ہی قومی ریاست کے نام پر امت کے تصور کی مکمل نفی کر سکتا ہے۔ پاکستان کو ان دونوں حقیقتوں کو ساتھ لے کر ہی آگے بڑھنا ہوگا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp