افغان طالبان نے پہلی مرتبہ سابق افغان اسپیشل فورسز اہلکاروں کو اپنی صفوں میں شامل کرنا شروع کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ وہ اہلکار ہیں جو سابق افغان حکومت کے دور میں نیٹو کی تربیت یافتہ فورسز کا حصہ تھے۔
یہ بھی پڑھیں:میران شاہ میں خودکش حملہ، معصوم شہری نشانہ بن گئے
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان حکومت کے قیام کے بعد ان میں سے اکثر اہلکاروں کو یا تو برطرف کر دیا گیا تھا یا گرفتار کر لیا گیا تھا کیونکہ طالبان کو خدشہ تھا کہ یہ ان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ تاہم حالیہ جھڑپوں اور سرحدی کشیدگی کے تناظر میں اب ان تجربہ کار فوجیوں کو دوبارہ متحرک کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں شہری ہلاکتوں سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ متوازن نہیں، پاکستان نے اعتراض اٹھا دیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی مسلح افواج کے ساتھ مقابلوں میں طالبان کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا اور روایتی جنگی حکمت عملی میں کمزور کارکردگی سامنے آئی، جس کے بعد طالبان قیادت نے سابق افغان فوج کے تربیت یافتہ کمانڈوز کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔














