منی لانڈرنگ کے ایک اہم مقدمے میں احتساب عدالت نے بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ کے سی او او کرنل (ر) خلیل الرحمان کو 1.6 ارب روپے کی منی لانڈرنگ ثابت ہونے پر 10 سال قید بامشقت، 25 ملین روپے جرمانہ اور غیر قانونی جائیداد ضبط کرنے کی سزا سنائی ہے۔
مزید پڑھیں: وزیر داخلہ کا منی لانڈرنگ اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم
عدالت نے قرار دیا کہ حوالہ ہنڈی کے ذریعے غیر قانونی رقوم کی منتقلی اور مالیاتی نظام کو نقصان پہنچانا سنگین جرم ہے اور ریاست ایسے مالیاتی جرائم کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی جاری رکھے گی۔
احتساب عدالت کے جج نصر من اللہ نے خلیل الرحمان کو منی لانڈرنگ میں قصوروار قرار دیتے ہوئے بھاری جرمانہ اور جائیداد ضبطی کی سزا بھی دی۔ تحقیقات کے مطابق 2007 سے بحریہ ٹاؤن سے منسلک رقوم مبینہ طور پر ہنڈی کے ذریعے بیرونِ ملک منتقل کی جاتی رہیں۔
مقدمہ ایف آئی آر نمبر 19/25 کے تحت اگست 2025 میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعات 3 اور 4 کے تحت درج ہوا۔
عدالت نے دستاویزی شواہد اور 12 گواہوں کی گواہی کی بنیاد پر 6 ماہ سے کم عرصے میں ٹرائل مکمل کیا۔ یہ ایف آئی اے اسلام آباد سرکل کا پہلا منی لانڈرنگ ٹرائل ہے جو منطقی انجام تک پہنچا۔
اس کیس میں ملک ریاض، علی ریاض، شاہد قریشی اور دیگر افراد پہلے ہی عدالت کی جانب سے اشتہاری قرار دیے جا چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: نیب اور این سی اے کا منی لانڈرنگ اور کرپشن کے خاتمے کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق
مقدمے سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ قانون سے فرار اور اثر و رسوخ کے سہارے انصاف سے بچنا ممکن نہیں۔













