ٹی20 ورلڈ کپ کے بعد واپسی میں تاخیر پر آئی سی سی پر تنقید، ٹیموں سے یکساں سلوک نہ کرنے کا الزام

اتوار 8 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ٹی20 ورلڈ کپ 2026 سے اخراج کے بعد سفری انتظامات میں تاخیر پر جنوبی افریقہ کے اسٹار بلے بازوں کوئنٹن ڈی کوک اور ڈیوڈ ملر نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ مختلف ٹیموں کے ساتھ سفری سہولیات کے معاملے میں یکساں سلوک نہیں کیا جا رہا۔

رپورٹس کے مطابق ٹی20 ورلڈ کپ 2026 سے اخراج کے بعد جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں بھارت میں پھنس کر رہ گئی ہیں کیونکہ عالمی فضائی حدود میں جاری پابندیوں کے باعث پروازوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم 4 مارچ کو سیمی فائنل میں شکست کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہوئی جبکہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم یکم مارچ کو سپر 8 مرحلے میں باہر ہوگئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: ٹی20 ورلڈ کپ کے بعد زمبابوے ٹیم کی واپسی، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے باعث سفری منصوبہ تبدیل

اس کے برعکس انگلینڈ کرکٹ ٹیم جو 5 مارچ کو ٹورنامنٹ سے باہر ہوئی، کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ جلد ہی وطن واپس روانہ ہونے والی ہے۔ اطلاعات کے مطابق آئی سی سی کی جانب سے ایک خصوصی چارٹرڈ پرواز کے ذریعے انگلینڈ کی ٹیم کو ممبئی سے روانہ کیا جائے گا۔

آئی سی سی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کو بھی اسی طرح کی سہولت فراہم کی جائے گی، تاہم دونوں ٹیمیں اب تک اپنی روانگی کے شیڈول کی تصدیق کی منتظر ہیں۔ رپورٹس کے مطابق دونوں اسکواڈ اس وقت کولکتہ میں موجود ہیں اور ممکن ہے کہ اتوار کو ایک پرواز کے ذریعے روانہ ہوں جو پہلے جوہانسبرگ جائے گی، جہاں سے ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی اینٹیگوا روانہ ہوں گے۔

سفری انتظامات میں تاخیر پر کوئنٹن ڈی کوک نے انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ‘یہ عجیب ہے کہ ہمیں کوئی اطلاع نہیں دی گئی جبکہ انگلینڈ ہم سے پہلے روانہ ہو رہا ہے۔ ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں مکمل طور پر لاعلم ہیں۔’

یہ بھی پڑھیے: ٹی20 ورلڈ کپ کے پہلے سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ کو شکست، نیوزی لینڈ نے فائنل میں جگہ بنالی

ان کے ساتھی کھلاڑی ڈیوڈ ملر نے بھی اسی طرح کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ‘دلچسپ بات یہ ہے کہ انگلینڈ ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہوا مگر آج ہی چارٹرڈ پرواز کے ذریعے گھر جا رہا ہے جبکہ باقی ٹیمیں ابھی تک کولکتہ میں جواب کی منتظر ہیں۔’

ویسٹ انڈیز کے ہیڈ کوچ ڈیرن سیمی نے بھی ملر کے مؤقف کی حمایت کی۔ دوسری جانب سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے بھی اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ انتظامیہ میں اثر و رسوخ کی بنیاد پر ٹیموں کے ساتھ مختلف سلوک نہیں ہونا چاہیے اور تمام ٹیموں کو یکساں سہولت ملنی چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فاطمہ ثنا کی عالمی کرکٹ میں دھوم، کینیڈا سپر 60 کی فرنچائز سے معاہدہ

ماہرین آثارِ قدیمہ کا موئن جو دڑو میں نئی تحقیق اور شہر کی فصیل کی نقل تعمیر کرنے کا مطالبہ

ورلڈ کپ کے اہم معرکے سے قبل قومی ہاکی ٹیم کی قیادت میں بڑی تبدیلی، عماد شکیل بٹ کو کپتانی سے ہٹا دیا گیا

بی جے پی رہنما کی بیٹی نے بھارتی نوجوانوں کے احتجاج کی حمایت کی وجہ بتا دی

دوران سفر متلی کی شکایت: ازالے کے لیے آئی فون کی ایک خفیہ سیٹنگ استعمال کرکے دیکھیں

ویڈیو

جسٹن گریوز نے ٹیسٹ کرکٹ میں منفرد عالمی ریکارڈ قائم کرلیا، ’سہولت کار‘ پاکستان ٹیم

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پھر آمنے سامنے، آخر اس لڑائی کی وجہ کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کے درمیان اہم ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

کالم / تجزیہ

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین 

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی