ٹی20 ورلڈ کپ 2026 سے اخراج کے بعد سفری انتظامات میں تاخیر پر جنوبی افریقہ کے اسٹار بلے بازوں کوئنٹن ڈی کوک اور ڈیوڈ ملر نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ مختلف ٹیموں کے ساتھ سفری سہولیات کے معاملے میں یکساں سلوک نہیں کیا جا رہا۔
رپورٹس کے مطابق ٹی20 ورلڈ کپ 2026 سے اخراج کے بعد جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں بھارت میں پھنس کر رہ گئی ہیں کیونکہ عالمی فضائی حدود میں جاری پابندیوں کے باعث پروازوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم 4 مارچ کو سیمی فائنل میں شکست کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہوئی جبکہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم یکم مارچ کو سپر 8 مرحلے میں باہر ہوگئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: ٹی20 ورلڈ کپ کے بعد زمبابوے ٹیم کی واپسی، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے باعث سفری منصوبہ تبدیل
اس کے برعکس انگلینڈ کرکٹ ٹیم جو 5 مارچ کو ٹورنامنٹ سے باہر ہوئی، کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ جلد ہی وطن واپس روانہ ہونے والی ہے۔ اطلاعات کے مطابق آئی سی سی کی جانب سے ایک خصوصی چارٹرڈ پرواز کے ذریعے انگلینڈ کی ٹیم کو ممبئی سے روانہ کیا جائے گا۔
آئی سی سی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کو بھی اسی طرح کی سہولت فراہم کی جائے گی، تاہم دونوں ٹیمیں اب تک اپنی روانگی کے شیڈول کی تصدیق کی منتظر ہیں۔ رپورٹس کے مطابق دونوں اسکواڈ اس وقت کولکتہ میں موجود ہیں اور ممکن ہے کہ اتوار کو ایک پرواز کے ذریعے روانہ ہوں جو پہلے جوہانسبرگ جائے گی، جہاں سے ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی اینٹیگوا روانہ ہوں گے۔
سفری انتظامات میں تاخیر پر کوئنٹن ڈی کوک نے انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ‘یہ عجیب ہے کہ ہمیں کوئی اطلاع نہیں دی گئی جبکہ انگلینڈ ہم سے پہلے روانہ ہو رہا ہے۔ ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں مکمل طور پر لاعلم ہیں۔’
یہ بھی پڑھیے: ٹی20 ورلڈ کپ کے پہلے سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ کو شکست، نیوزی لینڈ نے فائنل میں جگہ بنالی
ان کے ساتھی کھلاڑی ڈیوڈ ملر نے بھی اسی طرح کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ‘دلچسپ بات یہ ہے کہ انگلینڈ ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہوا مگر آج ہی چارٹرڈ پرواز کے ذریعے گھر جا رہا ہے جبکہ باقی ٹیمیں ابھی تک کولکتہ میں جواب کی منتظر ہیں۔’
ویسٹ انڈیز کے ہیڈ کوچ ڈیرن سیمی نے بھی ملر کے مؤقف کی حمایت کی۔ دوسری جانب سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے بھی اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ انتظامیہ میں اثر و رسوخ کی بنیاد پر ٹیموں کے ساتھ مختلف سلوک نہیں ہونا چاہیے اور تمام ٹیموں کو یکساں سہولت ملنی چاہیے۔













