بنگلہ دیش نے توانائی بحران کے باعث بجلی اور ایندھن کی بچت کے لیے ملک بھر کی جامعات کی قبل از وقت چھٹی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پیر سے تمام سرکاری اور نجی جامعات کو بند کر دیا جائے گا اور عیدالفطر کی تعطیلات کو پہلے ہی شروع کر دیا جائے گا۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحران کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران اسرائیل تنازع: بنگلہ دیش میں بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئیں
حکام کا کہنا ہے کہ جامعات کی بندش سے نہ صرف بجلی کی کھپت میں کمی آئے گی بلکہ ٹریفک کا دباؤ بھی کم ہوگا جس سے ایندھن کے ضیاع کو روکا جا سکے گا۔ سرکاری حکام کے مطابق یونیورسٹی کیمپسز میں رہائشی ہاسٹلز، کلاس رومز، لیبارٹریوں اور ایئرکنڈیشننگ کے باعث بڑی مقدار میں بجلی استعمال ہوتی ہے، اس لیے قبل از وقت بندش سے ملک کے دباؤ کا شکار بجلی کے نظام کو کچھ ریلیف ملے گا۔
بنگلہ دیش میں سرکاری اور نجی اسکول پہلے ہی رمضان المبارک کے باعث بند ہیں، جس کے بعد اب ملک کے بیشتر تعلیمی ادارے اس عرصے کے دوران مکمل طور پر بند رہیں گے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں خلل پیدا ہونے سے بنگلہ دیش کو ایندھن اور گیس کی فراہمی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔
حکومت نے جمعہ کے روز ایندھن کی فروخت پر یومیہ حد بھی مقرر کر دی تھی کیونکہ شہریوں کی جانب سے گھبراہٹ میں بڑی مقدار میں ایندھن خریدنے اور ذخیرہ کرنے کا رجحان بڑھ گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش: افواہوں کے باعث پیٹرول پمپس پر رش، حکومت کا وافر ذخائر کا دعویٰ
مزید کفایتی اقدامات کے تحت حکومت نے غیر ملکی نصاب پڑھانے والے اسکولوں اور نجی کوچنگ سینٹرز کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اس عرصے کے دوران اپنی سرگرمیاں معطل رکھیں تاکہ بجلی کی کھپت کم کی جا سکے۔
شدید گیس بحران کے باعث بنگلہ دیش کو اپنے پانچ میں سے چار سرکاری کھاد کارخانوں کی پیداوار بھی روکنا پڑی ہے اور دستیاب گیس کو بجلی گھروں کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش سے بچا جا سکے۔
بنگلہ دیش اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 95 فیصد درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے، جبکہ حکومت نے قلت پوری کرنے کے لیے اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی قیمتوں پر ایل این جی بھی خریدی ہے اور مزید کارگو حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
وزارتِ توانائی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا، ‘ہم توانائی کے استعمال میں کمی اور بجلی، ایندھن اور درآمدی نظام کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔’














