پاکستان نے سنہ 2026 کی امریکی کمیسیون برائے بین المذاہب آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں ملک کی اصلاحاتی کاوشوں کو نظرانداز کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو مکمل حقوق حاصل ہیں، وفاقی وزیر سردار یوسف
رپورٹ میں پاکستان کو خصوصی تشویش کے حامل ممالک میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی تاہم اس میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے عملی اقدامات کا ذکر نہیں ہے۔
پاکستان نے گزشتہ برسوں میں کئی اہم اصلاحات کی ہیں جن میں نیشنل کمیشن فار مائنورٹیز رائٹس (2025) کا قیام، پنجاب میں بچوں کی شادی کی روک تھام کے قوانین میں سختی (2026)، توہینِ مذہب قوانین کے غلط استعمال کے خلاف حفاظتی اقدامات اور آئینی طور پر اقلیتوں کی نمائندگی کو یقینی بنانا شامل ہیں۔ یہ اقدامات ملک میں بین المذاہب ہم آہنگی اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے طویل المدتی ادارہ جاتی کوششوں کا حصہ ہیں۔
مزید پڑھیے: ’ سرحد پار تشدد اور اقلیتوں پر مظالم بے نقاب ‘، اقوام متحدہ میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
پاکستان نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے اسکالرشپ، ویلفیئر پروگرامز، اور مذہبی تقریبات جیسے کرسمس اور دیوالی کی سرکاری سطح پر شناخت جاری رکھی ہوئی ہے جو بین المذاہب ہم آہنگی اور سماجی ہم آہنگی کے عزم کو ظاہر کرتی ہیں۔
مزید برآں دسمبر 2025 میں پارلیمنٹ نے نیشنل کمیشن فار مائنورٹیز رائٹس قائم کرنے کا قانون منظور کیا، جو 2014 میں سپریم کورٹ کے ہدایت نامے پر عمل درآمد کرتا ہے۔ یہ کمیشن اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی، شکایات کی تحقیقات، اور پالیسی اصلاحات کی سفارش کرنے کا مجاز ہے۔
مزید پڑھیں: معرکہ حق کی فتح اور یومِ آزادی پاکستان پر اقلیتوں کا امن و اتحاد کا پیغام
پاکستان کا موقف ہے کہ مذہبی آزادی پر بات چیت میں چیلنجز کے ساتھ ساتھ اصلاحاتی اقدامات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ رپورٹ میں صرف تشویش کو اجاگر کرنا حقیقت کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا، کیونکہ ملک میں قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے اقلیتوں کے تحفظ اور متنوع معاشرت کے فروغ کے لیے واضح اقدامات کیے جا رہے ہیں۔














