ایک نئے اوپن سورس سسٹم رو ویو نے عام وائی فائی روٹر کو ایسے آلے میں تبدیل کردیا ہے جو بغیر کسی کیمرے کے انسانی جسم کی حرکت، وضع قطع اور اہم علامات معلوم کرسکتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی اصل میں کارنیگی میلن یونیورسٹی کے محققین نے تیار کی تھی اور اسے ’بغیر آلات کے محسوس کرنے‘ کے طور پر پیش کیا گیا۔ رو ویو وائی فائی سگنلز کے ذریعے انسانی حرکت کی تین جہتی شکلیں تیار کرتا ہے اور جسم سے منعکس ہونے والی لہروں کی بنیاد پر حرکات کا تجزیہ کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے نے جدید ترین وائی فائی 7 کی منظوری دے دی
اس کے لیے کمرے میں 4 سے 6 چھوٹے اور سستے وائی فائی چِپس لگائے جاتے ہیں جو ایک غیر مرئی ریڈیو لہر کا جال بناتے ہیں۔ پھر ایک تیز رفتار پروگرام ہر سیکنڈ میں 54 ہزار بار یہ تبدیلیاں نوٹ کرتا ہے، جس سے جسم کے 17 نقاط جیسے سر، کہنی اور گھٹنے کی پوزیشن حقیقی وقت میں معلوم کی جاسکتی ہے، گویا جسم کا ڈیجیٹل خاکہ تیار ہو۔
رازداری کے خدشات
یہ ٹیکنالوجی صارفین کی حفاظت اور پرائیویسی کے لیے خطرناک ہے۔ کیمروں کے برعکس، یہ نظام نظر نہیں آتا اور موجودہ قوانین اس پر قابو نہیں رکھتے۔ بغیر اجازت یہ کسی کی موجودگی اور حرکت پر نظر رکھ سکتا ہے۔
مزید یہ کہ اندھیرا یا جسمانی رکاوٹیں بھی صارف کو محفوظ نہیں رکھتیں، کیونکہ یہ نگرانی جسمانی سطح پر ہوتی ہے، اور نیٹ ورک کے تحفظ کے طریقے اسے روک نہیں سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کی انسان جیسی خصوصیات رکھنے والی اے آئی سروسز پر نگرانی سخت کرنے کی تجویز
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب مواصلاتی آلات اچانک نگرانی کے آلے بن جائیں، تو صارف کی پرائیویسی کے قوانین اور تحفظات میں بنیادی تبدیلی آجاتی ہے۔














