مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے پیر کے روز امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی کئی ’حیران کن اقدامات‘ موجود ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے امریکی آپریشن ’ایپک فیوری‘ کا مذاق اڑایا۔
یہ بھی پڑھیں: روسی صدر پیوٹن کی ایران کے نئے سپریم لیڈر کو مبارک باد
سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں لکھا کہ آپریشن ایپک مسٹیک کےبعد سے تیل کی قیمتیں دوگنی ہو چکی ہیں جبکہ دیگر تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ امریکا ہمارے تیل اور جوہری تنصیبات کے خلاف سازشیں کر رہا ہے تاکہ مہنگائی کے بڑے جھٹکے کو قابو میں رکھا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران مکمل طور پر تیار ہے اور ہمارے پاس بھی کئی حیران کن اقدامات موجود ہیں۔
مزید پڑھیے: ایران کے ایٹمی خطرے کے خاتمے کے بعد تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آجائیں گی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے باعث عالمی منڈیوں میں تشویش پھیل گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خدشات اور سود کی شرح میں اضافے کے امکان کے باعث دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی دیکھی گئی جبکہ سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کے لیے امریکی ڈالر کی جانب رخ کر رہے ہیں۔
9 days into Operation Epic Mistake, oil prices have doubled while all commodities are skyrocketing. We know the U.S. is plotting against our oil and nuclear sites in hopes of containing huge inflationary shock. Iran is fully prepared.
And we, too, have many surprises in store. pic.twitter.com/UNQu0fVZE2
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) March 9, 2026
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 30 فیصد تک اضافہ ہوا اور فی بیرل قیمت تقریباً 120 ڈالر کے قریب پہنچ گئی جو ایک دن میں ہونے والے بڑے اضافوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس اضافے سے پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول سمیت مختلف مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
مزید پڑھیں: جنگِ ایران کے باعث خام تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں
برینٹ کروڈ آئل کی قیمت تقریباً 13 فیصد اضافے کے بعد 104.5 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت تقریباً 12 فیصد اضافے کے ساتھ 101.8 ڈالر فی بیرل رہی۔














