صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 27 جنوری 2020 کو سکندر سلطان راجہ کو 5 سال کی مدت کے لیے پاکستان کا چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا تھا۔ آئین کے آرٹیکل 215 کے تحت چیف الیکشن کمشنر کی مدت 5 سال مقرر کی گئی ہے اور مدت پوری ہونے پر 45 دن میں نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری لازمی ہے۔ تاہم اب 26ویں آئینی ترمیم کے تحت مدت مکمل ہونے کے بعد نئے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی تک وہ کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ اپوزیشن کے متعدد بار مطالبے کے باوجود اب تک نئے چیف الیکشن کمشنر کا تقرر نہیں ہو سکا ہے۔
سکندر سلطان راجہ اپنی 5 سالہ مدتِ ملازمت مکمل ہونے کے بعد بھی 14 ماہ سے اس عہدے پر فائز ہیں۔ انہوں نے اس عہدے پر مجموعی طور پر 13 عیدیں گزار لی ہیں۔ ان میں حالیہ عیدالفطر کو شامل کر کے 7 عیدالفطر یعنی چھوٹی عیدیں اور 6 عیدالاضحیٰ یعنی بڑی عیدیں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے الیکشن کا انعقاد ہمارا اختیار ہے، چیف الیکشن کمشنر نے صدر سے ملاقات کی دعوت رد کردی
سکندر سلطان راجہ سب سے زیادہ مدت تک اس عہدے پر فائز رہنے والے چیف الیکشن کمشنر بن چکے ہیں۔ ان کے بعد سب سے زیادہ عرصے یعنی 5 سال اور 13 ماہ تک پاکستان کے پہلے چیف الیکشن کمشنر فتح محمد خان مارچ 1956 سے اپریل 1962 تک اس عہدے پر تعینات رہے تھے۔ اس کے بعد سے کسی بھی شخص نے اس عہدے پر 5 سالہ مدت سے زائد وقت نہیں گزارا ہے۔
سکندر سلطان راجہ کون ہیں؟
سکندر سلطان راجہ کا تعلق ضلع سرگودھا کی تحصیل بھیرہ سے ہے۔ انہوں نے میٹرک اور ایف ایس سی کی تعلیم کیڈٹ کالج حسن ابدال سے حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے طب کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے قانون (ایل ایل بی) کی ڈگری بھی حاصل کی۔
سکندر سلطان راجہ نے 1987 میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سول سروس میں شمولیت اختیار کی اور ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ (ڈی ایم جی)، جو اب پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کہلاتی ہے، کا حصہ بنے۔ وہ 15ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے افسران میں شامل تھے۔ تربیت مکمل کرنے کے بعد انہیں 1989 میں اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد تعینات کیا گیا، جہاں سے ان کی عملی سرکاری خدمات کا آغاز ہوا۔
اپنے طویل بیوروکریٹک کیریئر کے دوران انہوں نے کئی اہم انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ وہ اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر بھی رہے، جبکہ پنجاب حکومت میں ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے طور پر بھی فرائض سرانجام دیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے پنجاب کے مواصلات و تعمیرات، سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن اور لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ جیسے اہم محکموں میں سیکریٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
انہوں نے وفاقی حکومت میں ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے طور پر خدمات انجام دیں اور گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹری کے طور پر بھی فرائض سرانجام دیے۔ آزاد جموں و کشمیر میں 2016 کے انتخابات کے دوران وہ چیف سیکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔
یہ بھی پڑھیے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے، اپوزیشن لیڈر کا وزیراعظم کو مشاورت کے لیے خط
اپریل 2017 میں انہیں وزارتِ پٹرولیم و قدرتی وسائل میں وفاقی سیکریٹری مقرر کیا گیا۔ اس دوران وہ پاکستان عرب ریفائنری کمپنی (پارکو) کے چیئرمین بھی رہے اور سوئی ناردرن گیس کمپنی لمیٹڈ (SNGPL)، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (OGDCL)، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL)، پارکو اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بھی شامل رہے۔
بعد ازاں 26 نومبر 2018 کو انہیں وفاقی سیکریٹری اور چیئرمین پاکستان ریلوے مقرر کیا گیا اور پھر 27 جنوری 2020 کو سکندر سلطان راجہ کو 5 سال کی مدت کے لیے پاکستان کا چیف الیکشن کمشنر مقرر کر دیا گیا تھا۔












