ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملے کے بعد پاکستان میں ممکنہ تیل کی قلت پر قابو پانے کے لیے وفاق اور صوبائی حکومتوں نے بچت اور کفایت شعاری کی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کی رات قوم سے خطاب کرتے ہوئے کفایت شعاری اقدامات کا اعلان کیا۔ انہوں نے قوم کو بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، جس کے لیے پیشگی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ تیل کے استعمال کو کم سے کم کیا جا سکے۔
وفاقی کابینہ کے ارکان کی تنخواہیں بند، تعلیمی اداروں کی چھٹیاں
وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کی رات قوم سے خطاب میں تیل کی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے حوالے سے تفصیل سے بتایا اور کہا کہ وفاقی حکومت نے مؤثر اقدامات اٹھائے ہیں۔
مزید پڑھیں: پارلیمنٹ میں کفایت شعاری کے سخت اقدامات، 70 فیصد گاڑیاں بند رکھنے کا فیصلہ
انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے آئندہ 2 ماہ کے لیے تمام سرکاری محکموں کے تیل کے استعمال میں 50 فیصد کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ اراکینِ پارلیمان کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی ہو گی۔ آئندہ 2 ماہ کے لیے حکومت کے وزراء، مشیران اور معاونینِ خصوصی تنخواہیں نہیں لیں گے۔
وفاق کے زیر انتظام تمام تعلیمی اداروں میں 2 ہفتے کی چھٹی ہوگی۔ جبکہ سرکاری دفاتر میں حاضری 50 فیصد ہو گی اور گھر سے کام کو ترجیح دی جائے گی۔ گریڈ 20 سے اوپر کے سرکاری افسران، جن کی تنخواہ 3 لاکھ سے زائد ہے، ان کی 2 دن کی تنخواہ کٹوتی کی جائے گی۔
سرکاری دفاتر کے لیے کسی قسم کے سامان کی خریداری پر مکمل پابندی ہو گی، جبکہ غیر ملکی دوروں پر بھی مکمل پابندی ہو گی۔ یہ پابندی وزیراعظم، گورنرز اور وزراء پر بھی لاگو ہو گی۔
سرکاری دفاتر میں آن لائن کانفرنس اور میٹنگز کو ترجیح دی جائے گی۔ دفاتر ہفتے میں صرف 4 دن کھلیں گے۔ جبکہ پارٹیوں اور دیگر تقریبات پر بھی مکمل پابندی ہو گی۔ وفاقی حکومت نے باقاعدہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا ہے۔
پنجاب حکومت کے کفایت شعاری اقدامات
پنجاب حکومت نے بھی وفاق کی ہدایت پر کفایت شعاری اور تیل کی بچت کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں اور باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔ پنجاب حکومت نے وفاق کی طرح سرکاری دفاتر میں حاضری 50 فیصد کرکے گھر سے کام کے اقدامات اٹھائے ہیں۔
کفایت شعاری اقدامات کے تحت پنجاب حکومت نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے صوبائی وزراء کے سرکاری فیول کو مکمل بند کر دیا ہے۔ جبکہ سرکاری محکموں کے فیول میں فوری طور پر 50 فیصد کمی کر دی گئی ہے۔
پنجاب حکومت نے اضافی پروٹوکول پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ پنجاب حکومت نے تعلیمی ادارے 10 مارچ سے 31 مارچ تک بند کرنے کا اعلامیہ جاری کیا ہے جبکہ آن لائن کلاسز کی ہدایت بھی کر دی ہے۔
غیر ضروری تقریبات اور افطار پارٹیوں پر بھی مکمل پابندی ہو گی۔ پنجاب حکومت نے سرکاری دفاتر میں اے سی کے استعمال کو کم کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت کے اقدامات کتنے مختلف ہیں؟
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاق کی جانب سے جنگ کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو ناانصافی قرار دیا اور مؤقف اپنایا کہ تیل کی قیمتوں کا تمام تر بوجھ عوام پر ڈالنا ظلم ہے۔
سہیل آفریدی نے اپنی حکومت کی جانب سے صوبے کے غریب طبقے کو پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے پر ریلیف دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ ان کی حکومت موٹر سائیکل والوں کو پیٹرول ریلیف دے گی۔
سہیل آفریدی کی جانب سے کیش ریلیف کا اعلان وفاق اور دیگر صوبوں کی نسبت مختلف ہے۔ کے پی حکومت کے مطابق صوبائی حکومت پیٹرول ریلیف رجسٹرڈ موٹر سائیکل مالکان کو دے گی۔
سہیل آفریدی کے مطابق صوبائی حکومت مجموعی طور پر فی موٹر سائیکل 2200 روپے ریلیف دے گی جو دو اقساط میں دیا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ 1100 روپے کی پہلی قسط فوری دی جائے گی جبکہ باقی 1100 روپے بعد میں دیے جائیں گے۔
جبکہ وفاق، پنجاب یا دیگر صوبوں نے کسی قسم کے کیش ریلیف کا اعلان نہیں کیا ہے۔
وفاق، پنجاب اور دیگر صوبوں کی نسبت خیبر پختونخوا نے تعلیمی اداروں کو ہفتے میں چار دن کھلے رکھنے اور تعلیمی عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تعلیمی اداروں میں ابھی تک اضافی چھٹیاں نہیں دی گئیں۔
سرکاری فیول میں وفاق میں 50 جبکہ کے پی میں 25 فیصد کمی
وفاق نے سرکاری محکموں کے فیول کے استعمال میں 50 فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ اس کے برعکس خیبر پختونخوا کابینہ نے سرکاری فیول میں 25 فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے۔
ترجمان صوبائی حکومت کے مطابق خیبر پختونخوا میں کورونا کے دوران پہلے ہی 25 فیصد کمی کی گئی تھی جبکہ اب مزید 25 فیصد کمی کی گئی ہے۔ جبکہ پنجاب حکومت نے بھی 50 فیصد کمی کا اعلان کیا ہے۔
سرکاری دفاتر میں حاضری
سرکاری دفاتر میں حاضری کے حوالے سے تمام صوبوں نے وفاق کی ہدایت کے مطابق فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت سرکاری دفاتر میں 50 فیصد حاضری ہو گی جبکہ باقی عملہ گھر سے کام کرے گا۔ تقریبات اور افطار پارٹیوں پر پابندی ہو گی۔
سندھ حکومت نے کیا اقدامات کیے ہیں؟
جنگی صورتِ حال میں تیل کی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے تحت سندھ حکومت نے اعلامیہ جاری کیا ہے جس کے تحت صوبے میں غیر ضروری تقریبات پر مکمل پابندی ہو گی۔
سندھ حکومت نے صوبے میں 4 روزہ ورک ویک کا اعلان کیا ہے۔ جمعے کو ورک فرام ہوم ہو گا جبکہ ہفتہ اور اتوار کو سرکاری دفاتر بند رہیں گے۔
سندھ میں سرکاری گاڑیوں کے پیٹرول کوٹے میں 50 فیصد کٹوتی کی گئی ہے جبکہ تمام غیر ضروری گاڑیاں فوری گراؤنڈ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
کفایت شعاری مہم کے تحت صوبائی وزراء اور مشیروں نے رضاکارانہ طور پر تین ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اعلیٰ سرکاری افسران کی دو دن کی تنخواہ بھی رضاکارانہ طور پر کٹوتی کی جائے گی۔
سرکاری محکموں میں نئی گاڑیوں اور قیمتی اشیاء کی خریداری پر جون 2026 تک مکمل پابندی ہو گی۔
سرکاری وفود کے بیرون ملک دوروں پر پابندی ہو گی جبکہ تمام وزراء اور افسران صرف اکانومی کلاس میں سفر کریں گے۔
سندھ بھر کے تعلیمی اداروں میں اسکولوں کے لیے 16 سے 31 مارچ تک موسمِ بہار کی تعطیلات کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ کالجز اور یونیورسٹیوں میں آن لائن کلاسز لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے۔
60 فیصد سرکاری گاڑیاں اگلے 2 ماہ کے لیے کھڑی رہیں گی جبکہ سرکاری حکام کو کار پولنگ کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سندھ حکومت نے سرکاری دفاتر میں 50 فیصد عملے کو ورک فرام ہوم کے تحت کام کرنے کی اجازت بھی دے دی ہے۔
شادی کی تقریبات کے لیے نئی حد مقرر کی گئی ہے: مہمانوں کی تعداد 200 تک محدود ہو گی اور صرف ایک ڈش کی اجازت ہو گی۔
موٹر ویز اور ہائی ویز پر گاڑیوں کی رفتار کم رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، خلاف ورزی پر کارروائی ہو گی۔ جبکہ سرکاری سطح پر افطار پارٹیوں اور ڈنر پر پابندی ہو گی اور اجلاس اب صرف ویڈیو لنک کے ذریعے ہوں گے۔
بلوچستان حکومت نے کیا اقدامات اٹھائے ہیں؟
حکومت بلوچستان نے خطے میں جاری جنگی صورتحال اور ایندھن کی ممکنہ قلت کے پیش نظر صوبے بھر کے تمام تعلیمی ادارے عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن اور محکمہ کالجز، ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن بلوچستان کی جانب سے جاری علیحدہ علیحدہ نوٹیفکیشنز کے مطابق صوبے میں تمام سرکاری و نجی اسکولوں، کالجوں، انٹرمیڈیٹ، ڈگری اور ٹیکنیکل کالجز سمیت پبلک سیکٹر جامعات کو 9 مارچ سے 23 مارچ 2026 تک بند رکھا جائے گا۔
مزید پڑھیں: سندھ کابینہ کا کفایت شعاری اور ایندھن بچت پلان منظور، معاشی دباؤ کے پیش نظر اہم فیصلے
حکام کے مطابق یہ فیصلہ خطے میں حالیہ جنگی صورتحال، عوامی نقل و حمل اور ایندھن کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں کے پیش نظر احتیاطی تدابیر کے طور پر کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انتظامی تیاری کو یقینی بنایا جا سکے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مذکورہ تعلیمی اداروں میں تدریسی، تعلیمی اور انتظامی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔ تاہم اسکولوں میں جاری داخلہ مہم، ڈیجیٹل مردم شماری آف اسکولز اور اگر کوئی امتحانات مقرر ہیں تو وہ اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے۔
حکومت نے تمام متعلقہ حکام، ڈویژنل ڈائریکٹرز، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز اور اداروں کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس فیصلے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں اور نوٹیفکیشن کی مکمل تشہیر کریں۔
یہ نوٹیفکیشن سیکریٹری کالجز ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن صالح محمد بلوچ اور سیکریٹری اسکول ایجوکیشن لال جان جعفر کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔














