دنیا اتنی بری نہیں جتنی ہماری منفی سوچ اسے بنا دیتی ہے

بدھ 11 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عائشہ امجد کے مطابق اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی سچا نہیں، سب اپنے مفاد کے لیے کام کرتے ہیں، دوستی نام کی کوئی چیز نہیں، اور کسی پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے کچھ تجربات واقعی انسان کو یہ محسوس کروا دیتے ہیں۔ جب کسی کو دھوکہ ملتا ہے، اعتماد ٹوٹتا ہے یا قریبی شخص توقع کے مطابق ساتھ نہیں دیتا تو یہ خیال آنا فطری ہے کہ شاید دنیا ہی ایسی ہے۔

لیکن ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے:

کیا واقعی دنیا اتنی بری ہے یا ہماری سوچ اور نظریہ بدل گیا ہے؟

نفسیات میں ایک تصور پروجیکشن (Projection) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر موجود درد، عدم تحفظ یا بداعتمادی اس کی سوچ اور نظریہ پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یعنی انسان اپنے اندر کے زخم دوسروں کے چہروں پر دیکھنے لگتا ہے۔

  • اگر کوئی شخص اندر سے بہت زخمی ہو تو اسے ہر جگہ دھوکہ نظر آتا ہے۔ اگر کوئی شخص عدم تحفظ کا شکار ہو تو اسے ہر جگہ مقابلہ اور خطرہ محسوس ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر، اگر آپ کسی دوست کو پیغام بھیجیں اور اس کا جواب دیر سے آئے، تو دو طرح کی سوچ پیدا ہو سکتی ہے: ایک یہ کہ شاید وہ مصروف ہوگا، اور دوسری یہ کہ اسے پرواہ نہیں۔ حقیقت ایک ہی ہے، لیکن اس کی تشریح ہماری سوچ کے مطابق بدل جاتی ہے۔

اسی طرح بعض لوگ ہر وقت دوسروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور ہر کسی میں غرور، خودغرضی یا منافقت تلاش کرتے ہیں۔ بعض اوقات یہ تنقید دراصل انسان کی اپنی اندرونی عدم تحفظ کا عکس ہوتی ہے۔ بعض لوگ ہر بات میں شک کرتے ہیں اور ہر عمل کے پیچھے کسی چھپی ہوئی نیت (hidden agenda) کو تلاش کرتے ہیں، حالانکہ اکثر یہ بداعتمادی ماضی کے تجربات کا نتیجہ ہوتی ہے۔

اسلام ہمیں اس معاملے میں متوازن رہنمائی دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

اے ایمان والو! بہت زیادہ بدگمانی سے بچو، یقیناً بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔

(سورۃ الحجرات 49:12)

یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر بات کو منفی انداز میں دیکھنا درست نہیں اور کسی کے بارے میں بغیر حقیقت جانے برا گمان کرنا بھی اخلاقی غلطی ہو سکتی ہے۔

اسلام ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ انسان اپنی حدود (boundaries) رکھے اور سمجھداری سے تعلقات قائم کرے، لیکن ساتھ ہی حسنِ ظن یعنی دوسروں کے بارے میں اچھا گمان رکھنے کی تعلیم بھی دیتا ہے۔

اسلام کا ایک بنیادی تصور تزکیۂ نفس ہے، جس کا مطلب ہے اپنے اندر جھانکنا، دل کو صاف کرنا اور اپنی نیت اور سوچ کو بہتر بنانا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

یقیناً کامیاب وہ ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا۔ (سورۃ الشمس 91:9)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اصل کامیابی دنیا کو بدلنے میں نہیں بلکہ اپنے اندر کو بہتر بنانے میں ہے۔ جب انسان اپنے دل کو صاف کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی نظر بھی بدلنے لگتی ہے۔ جہاں پہلے ہر طرف بداعتمادی اور شک نظر آتا تھا، وہاں آہستہ آہستہ خیر اور بھلائی بھی دکھائی دینے لگتی ہے۔

کبھی مسئلہ واقعی لوگوں میں نہیں ہوتا، بلکہ ہماری تصور (perception) یعنی ہمارے گمان میں ہوتا ہے۔ جب انسان اپنی اندرونی اصلاح شروع کرتا ہے تو دنیا بھی اسے پہلے سے مختلف نظر آنے لگتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایندھن کا بحران: سندھ کی جامعات میں 31 مارچ تک آن لائن کلاسز کا فیصلہ:

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کے بحران میں کمی کے امکانات روشن، متبادل ذرائع سے تیل آنا شروع

طالبان سے وابستہ نام نہاد عالم کا پاکستان کے خلاف ’جہاد‘ کا فتویٰ، اشتعال انگیز بیان پر تشویش

مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے نے یورپ پر بھاری اقتصادی بوجھ ڈال دیا، صدر یورپی یونین

پی ایس ایل 11 کی ٹرافی کی باضابطہ رونمائی، نام بھی رکھ دیا گیا

ویڈیو

ایران، امریکا، اسرائیل جنگ، پاکستان نے بھی آپریشن شروع کردیا، عید سے پہلے عمران خان کی رہائی؟

5جی اسپیکٹرم کی نیلامی: کیا انٹرنیٹ کے مسائل ختم ہوجائیں گے؟

لائیوبیشتر مقاصد پورے ہوگئے، ایران جنگ بہت جلد ختم ہو سکتی ہے، ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

کالم / تجزیہ

ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی افغان طالبان کے لیے نئی مصیبت

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے