عائشہ امجد کے مطابق اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی سچا نہیں، سب اپنے مفاد کے لیے کام کرتے ہیں، دوستی نام کی کوئی چیز نہیں، اور کسی پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے کچھ تجربات واقعی انسان کو یہ محسوس کروا دیتے ہیں۔ جب کسی کو دھوکہ ملتا ہے، اعتماد ٹوٹتا ہے یا قریبی شخص توقع کے مطابق ساتھ نہیں دیتا تو یہ خیال آنا فطری ہے کہ شاید دنیا ہی ایسی ہے۔
لیکن ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا واقعی دنیا اتنی بری ہے یا ہماری سوچ اور نظریہ بدل گیا ہے؟
نفسیات میں ایک تصور پروجیکشن (Projection) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر موجود درد، عدم تحفظ یا بداعتمادی اس کی سوچ اور نظریہ پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یعنی انسان اپنے اندر کے زخم دوسروں کے چہروں پر دیکھنے لگتا ہے۔
- اگر کوئی شخص اندر سے بہت زخمی ہو تو اسے ہر جگہ دھوکہ نظر آتا ہے۔ اگر کوئی شخص عدم تحفظ کا شکار ہو تو اسے ہر جگہ مقابلہ اور خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر، اگر آپ کسی دوست کو پیغام بھیجیں اور اس کا جواب دیر سے آئے، تو دو طرح کی سوچ پیدا ہو سکتی ہے: ایک یہ کہ شاید وہ مصروف ہوگا، اور دوسری یہ کہ اسے پرواہ نہیں۔ حقیقت ایک ہی ہے، لیکن اس کی تشریح ہماری سوچ کے مطابق بدل جاتی ہے۔
اسی طرح بعض لوگ ہر وقت دوسروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور ہر کسی میں غرور، خودغرضی یا منافقت تلاش کرتے ہیں۔ بعض اوقات یہ تنقید دراصل انسان کی اپنی اندرونی عدم تحفظ کا عکس ہوتی ہے۔ بعض لوگ ہر بات میں شک کرتے ہیں اور ہر عمل کے پیچھے کسی چھپی ہوئی نیت (hidden agenda) کو تلاش کرتے ہیں، حالانکہ اکثر یہ بداعتمادی ماضی کے تجربات کا نتیجہ ہوتی ہے۔
اسلام ہمیں اس معاملے میں متوازن رہنمائی دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اے ایمان والو! بہت زیادہ بدگمانی سے بچو، یقیناً بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔
(سورۃ الحجرات 49:12)
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر بات کو منفی انداز میں دیکھنا درست نہیں اور کسی کے بارے میں بغیر حقیقت جانے برا گمان کرنا بھی اخلاقی غلطی ہو سکتی ہے۔
اسلام ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ انسان اپنی حدود (boundaries) رکھے اور سمجھداری سے تعلقات قائم کرے، لیکن ساتھ ہی حسنِ ظن یعنی دوسروں کے بارے میں اچھا گمان رکھنے کی تعلیم بھی دیتا ہے۔
اسلام کا ایک بنیادی تصور تزکیۂ نفس ہے، جس کا مطلب ہے اپنے اندر جھانکنا، دل کو صاف کرنا اور اپنی نیت اور سوچ کو بہتر بنانا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
یقیناً کامیاب وہ ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا۔ (سورۃ الشمس 91:9)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اصل کامیابی دنیا کو بدلنے میں نہیں بلکہ اپنے اندر کو بہتر بنانے میں ہے۔ جب انسان اپنے دل کو صاف کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی نظر بھی بدلنے لگتی ہے۔ جہاں پہلے ہر طرف بداعتمادی اور شک نظر آتا تھا، وہاں آہستہ آہستہ خیر اور بھلائی بھی دکھائی دینے لگتی ہے۔
کبھی مسئلہ واقعی لوگوں میں نہیں ہوتا، بلکہ ہماری تصور (perception) یعنی ہمارے گمان میں ہوتا ہے۔ جب انسان اپنی اندرونی اصلاح شروع کرتا ہے تو دنیا بھی اسے پہلے سے مختلف نظر آنے لگتی ہے۔














