امریکا اور اسرائیل کی ایران خلاف حالیہ کارروائیوں میں صرف تیل اور توانائی کے اہداف ہی نہیں بلکہ پانی کے بنیادی ذرائع یعنی ڈیسی لینیشن پلانٹس بھی خطرے میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا 200 ڈالر فی بیرل تیل خریدنے کے لیے تیار ہو جائے، ایران نے خبردار کردیا
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ان پلانٹس میں سمندر کے پانی کو پینے کے قابل مشینوں سے صاف کیا جاتا ہے اور یہ خاص طور پر خلیجی ممالک کے لیے بہت اہم ہیں جہاں تازہ پانی بہت کم ہوتا ہے۔
خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں کی وجہ سے خام تیل کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ پانی حقیقی اور خطرناک ہدف ہے کیونکہ خلیجی ممالک خصوصاً بحرین، کویت، عمان اور سعودی عرب اپنے پینے کے پانی کا بڑا حصہ ان ہی پلانٹس سے حاصل کرتے ہیں۔
ایک حالیہ حملے میں بحرین کے ایک ڈیسی لینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچا جس نے پانی کی فراہمی کے مسائل بڑھا دیے ہیں۔
مزید پڑھیے: ایران میں 77 طبی مراکز اور 65 تعلیمی اداروں سمیت 20 ہزار عمارتیں تباہ
اقوامِ متحدہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ ان بنیادی انفراسٹرکچر پر حملے کا انسانی اور ماحولیاتی نقصان سنگین ہو سکتا ہے کیونکہ پانی نہ صرف پینے کے لیے ضروری ہے بلکہ صحت اور عوامی خدمات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈیسی لینیشن پلانٹس کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو خلیج کے بہت سے ممالک میں شدید پانی کی قلت اور عوامی بحران پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ ان کے پاس پانی کے فوری متبادل ذرائع بہت محدود ہیں۔
مزید پڑھیں: بیشتر مقاصد پورے ہوگئے، ایران جنگ بہت جلد ختم ہو سکتی ہے، ٹرمپ کا بڑا دعویٰ
اس پیشرفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی صرف جنگی اہداف تک محدود نہیں رہی بلکہ بنیادی انسانی ضروریات اور روزمرہ زندگی کے وسائل بھی تنازعے کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔














