پاکستان علما کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ ایران پر حملہ رکوانے کے لئے جن 4-5 لوگوں نے بھرپور کوششیں کیں ان میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ دیگر رہنما جو اس حملے کو روکنے کے لئے کوشش کر رہے تھے ان میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر طیب اردوگان، قطر کے امیر اور عمان کی قیادت شامل تھی، جنہوں نے امریکا کے ساتھ ایران کے مذاکرات کروانے کی بھی کوشش کی۔ تاہم پاکستان نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ مل کر اس کوشش میں قائدانہ کردار ادا کیا۔
علامہ طاہر اشرفی نے وی نیوز کے پروگرام دین، امن اور ہم آہنگی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی اس وقت سب سے بڑی ذمہ داری مسلم امہ میں وحدت اور اتحاد کو فروغ دینا ہے اور کسی بھی ملک یا قوت کی سازش کو ناکام بنانا ہے جو مسلم ممالک میں اختلاف پیدا کرنا چاہتی ہے۔
علامہ طاہر اشرفی نے واضح کیا کہ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا بڑھا ہے اور بعض قوتیں مسلم ممالک کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے کردار میں اعتدال اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، اور ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو خراب ہونے سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی قیادت نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے مسلسل رابطے قائم کیے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کی۔
علامہ اشرفی نے کہا کہ یہ کوششیں امت مسلمہ کے لیے مثال ہیں اور پاکستان نے ہر سطح پر یہ کردار ادا کیا ہے کہ کوئی جنگ یا تصادم نہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض عناصر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں، لیکن پاکستان کا کردار ہمیشہ امن، استحکام اور امت کی یکجہتی کے فروغ میں رہا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ سعودی عرب اور ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تاریخی، قلبی اور دفاعی لحاظ سے مضبوط ہیں اور کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ امت مسلمہ میں تفرقہ ڈالنے والی سازشوں کا مقابلہ صرف وحدت اور اتحاد کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینی عوام کے حق میں یکجہتی اور یوم القدس کی تقریبات امت مسلمہ کے اتحاد کا عملی مظاہرہ ہیں۔
علامہ طاہر اشرفی نے اپیل کی کہ امت مسلمہ کے اتحاد اور وحدت کو پارہ پارہ نہ کیا جائے اور ہر کسی کو ذمہ داری کے ساتھ امت کے مسائل میں کردار ادا کرنا چاہیے۔











