ایران جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے پیش نظر بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے اسٹریٹیجک ذخائر سے بڑی مقدار میں تیل جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: جی7 اجلاس میں صدر ٹرمپ کا غیر متوقع قدم، جنگ بندی کی کوشش یا نئی کشیدگی؟
پیرس میں جاری اعلامیے کے مطابق بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے 400 ملین بیرل تیل مارکیٹ میں فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ توانائی کی بڑھتی قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے اور عالمی سپلائی میں استحکام پیدا ہو۔ ادارے کے مطابق ہنگامی ذخائر ہر رکن ملک کی ضروریات اور مارکیٹ کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے ہونے والے اضافے کو کم کرنا اور عالمی توانائی منڈی میں عدم استحکام کو روکنا ہے۔ ایجنسی کے اس فیصلے کی 32 رکن ممالک نے متفقہ طور پر حمایت کی۔
یہ بھی پڑھیں: جی 7 ممالک کا اہم فیصلہ، خام تیل کی قیمت میں نمایاں کمی
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے قیام کے بعد 1970 کی دہائی سے اب تک یہ چھٹی مرتبہ ہے جب عالمی سطح پر ہنگامی ذخائر جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ادارے کے مطابق اس فیصلے کا اعلان فرانس کی سربراہی میں ہونے والے جی 7 رہنماؤں کے اجلاس کے دوران کیا گیا، جہاں توانائی بحران اور عالمی معاشی اثرات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔














