سوشل میڈیا پر ان دنوں 80 کی دہائی کے ونٹیج انداز، ریٹرو اسٹائل اور کارٹونش تصاویر بنانے کا رجحان طوفان کی طرح پھیل چکا ہے۔ لاکھوں صارفین اپنی تصاویر کو ان مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹولز کے ذریعے تبدیل کر کے شیئر کررہے ہیں، تاکہ وہ گزرے ہوئے دور کے سنہری لمحوں کا تجربہ کر سکیں۔
لیکن بظاہر معصوم اور تفریح لگنے والا یہ وائرل رجحان اب سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ٹرینڈز محض تفریح تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ ڈیوائس ہیکنگ، پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزی اور ڈیٹا چوری کا ایک انتہائی خطرناک اور خاموش ذریعہ بن چکے ہیں۔
یہ ٹرینڈز ڈیجیٹل دنیا میں پرائیوسی کو کیسے نقصان پہنچاتے ہیں؟ آئیے جانتے ہیں۔
اے آئی فوٹو ایپس کے ذریعے بائیو میٹرک اور چہرے کے ڈیٹا کی چوری:
سائبر سیکیورٹی ایکسپرٹ اطہر اے جبار نے اس حوالے سے بتایا کہ جب صارفین اپنی، اپنے بچوں یا عزیز و اقارب کی واضح تصاویر ان تھرڈ پارٹی ایپلی کیشنز اور ویب سائٹس پر اپ لوڈ کرتے ہیں، تو یہ پلیٹ فارمز صرف تصویر کو تبدیل کرنے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ پس پردہ اے آئی ماڈلز کو تربیت دینے اور اپنے ڈیٹا بیس کو مضبوط بنانے کے لیے چہرے کے انوکھے خدوخال (Facial Features) اور بائیو میٹرک ڈیٹا کا وسیع ذخیرہ جمع کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
یہ حساس ڈیٹا صارفین کی اجازت کے بغیر اکثر نامعلوم تھرڈ پارٹی کمپنیوں، اشتہاری نیٹ ورکس یا ڈیٹا بروکرز کو بھاری داموں فروخت کر دیا جاتا ہے۔
چہرے کا یہ ڈیٹا فیشل ریکگنیشن سسٹمز کو تربیت دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جس سے مستقبل میں متاثرہ شخص کی ڈیجیٹل شناخت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور وہ بغیر جانے سائبر مجرموں کے جال میں پھنس جاتا ہے۔
خطرناک پرمیشنز اور مالویئر کے ذریعے ڈیوائس ہیکنگ
اطہر اے جبار کے مطابق زیادہ تر وائرل ہونے والی یہ اے آئی ایپس اور ویب سائٹس صارفین کو پرکشش اور جادوئی نتائج دکھانے کے لیے انسٹالیشن کے وقت اسمارٹ فون یا کمپیوٹر کے اندرونی نظام تک گہرے رسائی کے حقوق (Permissions) مانگتی ہیں۔
’عام صارف بغیر سوچے سمجھے گیلری، کیمرہ، کانٹیکٹس، لوکیشن اور ایکسٹرنل اسٹوریج تک رسائی کی اجازت دے دیتا ہے، اور پھر یہ لا محدود پرمیشنز سائبر ہیکرز کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرتی ہیں کہ وہ ان ایپس کے پس منظر میں چھپے مالویئر یا اسپائی ویئر کو صارف کی ڈیوائس میں داخل کر دیں۔‘
انہوں نے کہاکہ ایک بار ڈیوائس ہیک ہونے کے بعد ہیکرز نہ صرف فون پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں بلکہ خفیہ پیغامات، بینکنگ ایپلی کیشنز کا ڈیٹا اور ذاتی نوعیت کی ویڈیوز بھی چرا سکتے ہیں۔
فشنگ لنکس اور جعلی ویب سائٹس کے ذریعے دھوکہ دہی:
ڈیجیٹل سیکیورٹی ایکسپرٹ مطاہر خٹک کے مطابق 1980 کی دہائی کی تصاویر کے ٹرینڈ کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے لیے بہت سے فیک اکاؤنٹس، پیجز اور اسپانسرڈ اشتہارات استعمال کیے جاتے ہیں، جن کے ساتھ مشکوک لنکس منسلک ہوتے ہیں۔ یہ لنکس بظاہر کسی مقبول اے آئی ٹول یا فوٹو ایڈیٹر کا پتہ دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ خطرناک فشنگ (Phishing) ویب سائٹس ہوتی ہیں جو ہیکرز کی طرف سے تیار کی جاتی ہیں۔
’جب صارف ان لنکس پر کلک کر کے اپنی معلومات درج کرتا ہے یا سوشل میڈیا لاگ ان کے ذریعے سائن ان کرتا ہے، تو اس کے تمام لاگ ان کریڈینشلز، ای میل پاس ورڈز اور مالیاتی تفصیلات براہ راست ہیکرز کے سرورز میں منتقل ہو جاتی ہیں۔ اس طرح بغیر کسی جسمانی مداخلت کے صارف کا پورا ڈیجیٹل اکاؤنٹ خالی ہو سکتا ہے۔‘
ڈیجیٹل شناخت کا غلط استعمال اور بلیک میلنگ کے خطرات
مطاہر خٹک کہتے ہیں کہ چوری شدہ تصاویر، بائیو میٹرک ڈیٹا اور ذاتی معلومات کی مدد سے سائبر مجرم متاثرہ افراد کے نام سے جعلی ڈیجیٹل شناختیں (Identity Theft) تیار کرتے ہیں۔ ان جعلی پروفائلز اور اکاؤنٹس کا استعمال سوشل میڈیا پر فراڈ کرنے، لوگوں سے مالی امداد مانگنے یا انتہائی حساس نوعیت کے سماجی جرائم میں کیا جاتا ہے۔
’اس کے علاوہ، بعض اوقات ہیکرز چوری شدہ ذاتی تصاویر کو ڈیپ فیک (Deepfake) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے غیر اخلاقی مواد میں تبدیل کر سکتے ہیں، اور پھر متاثرہ افراد کو بلیک میل کر کے بھاری رقوم کا تقاضا کرتے ہیں۔ خواتین اور کم عمر نوجوان اس طرح کے بلیک میلنگ اور ہراسانی کے نیٹ ورکس کا سب سے زیادہ شکار بنتے ہیں۔‘
حفاظتی ہدایات اور احتیاطی تدابیر
اطہر اے جبار کے مطابق اس قسم کے عارضی اور وائرل ہونے والے رجحانات سے ہوشیار رہنا آج کے دور میں بے حد ضروری ہے۔
اطہر اے جبار نے کہاکہ اس دور میں سب سے زیادہ خطرناک ڈیجیٹل دنیا ہے۔ چونکہ ڈیجیٹل موجودگی اتنی ضروری ہو چکی ہے کہ اس سے اجتناب بھی نہیں کیا جا سکتا اس لیے چند بنیادی احتیاطی تدابیر کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا اب لازم ہو چکا ہے۔
’کسی بھی غیر مصدقہ یا نئے اے آئی ٹول کو اپنی یا اپنے خاندان کی تصاویر ہرگز نہ دیں۔ کسی بھی ایپ کو ڈاؤن لوڈ کرنے سے پہلے اس کی پرائیویسی پالیسی کا بغور مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ آیا وہ آپ کا ڈیٹا محفوظ رکھنے کی پابند ہے یا نہیں۔‘
انہوں نے کہاکہ اگر کوئی موبائل ایپ بلاجواز آپ کے فون کی گیلری، ایس ایم ایس یا کانٹیکٹس تک رسائی مانگے، تو اس کی اجازت ہرگز نہ دیں اور ایسی ایپ کو فوری طور پر اپنے فون سے ڈیلیٹ کر دیں۔ ہمیشہ مستند، معروف اور تسلیم شدہ ٹیک کمپنیوں کی آفیشل ایپلیکیشنز پر بھروسہ کریں تاکہ آپ کا قیمتی ڈیٹا اور ڈیجیٹل شناخت محفوظ رہ سکے۔‘










