26 نومبر 2024 کے بعد اسلام آباد ایک مرتبہ پھر سے ممکنہ طور پر احتجاج اور دھرنوں کا مرکز بننے جا رہا ہے جب جماعت اسلامی مہنگائی کے خلاف 20 ستمبر کو احتجاج کا اعلان کر چکی ہے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔
اِسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے گزشتہ روز ایک حکمنامے میں کہاکہ کسی سیاسی جماعت، پبلک آفس ہولڈر کے پاس اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا اختیار نہیں، صوبوں کے وزرائے اعلیٰ یقینی بنائیں سرکاری مشینری سیاسی جماعت کے احتجاج میں استعمال نہ ہو، کسی بھی سرکاری ملازم کو احتجاج میں شرکت کے لیے مجبور نہ کیا جائے۔
عدالت کے واضح حکمنامے کے بعد مجوزہ احتجاجوں کی صورت کیا بنتی ہے، اس کا اندازہ آنے والے کچھ دنوں میں ہو جائے گا لیکن اِس سے قبل کب کب دو یا دو سے زیادہ سیاسی جماعتوں نے اِسلام آباد میں دھرنے اور احتجاج کیے۔ وی نیوز نے یہ تفصیلات سامنے لائی ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ اور دھرنے کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ جماعت اسلامی بھی مہنگائی اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی تحریک چلا رہی ہے۔
موجودہ سیاسی منظرنامے میں اس وقت خاص توجہ اس امکان پر ہے کہ آیا دونوں جماعتوں کی احتجاجی سرگرمیاں کسی مرحلے پر ایک دوسرے کے قریب آتی ہیں یا نہیں۔ پی ٹی آئی نے حالیہ دنوں میں جماعت اسلامی کے احتجاج کی حمایت بھی کی ہے۔
اسلام آباد کی سیاسی تاریخ میں مختلف سیاسی جماعتوں کا ایک ہی وقت میں حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنا کوئی نئی بات نہیں۔
وفاقی دارالحکومت نے گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران ایسے کئی سیاسی مناظر دیکھے ہیں جب مختلف جماعتوں کے مفادات، مطالبات یا حکومت مخالف مؤقف ایک دوسرے سے مل گئے اور احتجاجی سیاست نے مشترکہ شکل اختیار کی۔
2014 پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کا دھرنا
2 جماعتوں کے مشترکہ احتجاج کی سب سے نمایاں مثال 2014 کا پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کا دھرنا تھا۔ عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف نے 14 اگست 2014 کو اسلام آباد کی جانب آزادی مارچ شروع کیا، جبکہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی پاکستان عوامی تحریک نے اسی عرصے میں انقلاب مارچ نکالا۔
دونوں جماعتوں کے مارچ الگ الگ نعروں اور مطالبات کے ساتھ اسلام آباد پہنچے لیکن بعد ازاں دونوں کے دھرنے وفاقی دارالحکومت میں ایک دوسرے کے قریب آ گئے اور حکومت مخالف سیاسی دباؤ ایک مشترکہ منظر میں تبدیل ہوگیا۔
2014 کے دھرنے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ تھی کہ یہ تقریباً 126 دن جاری رہا۔ پاکستان عوامی تحریک بھی اسی عرصے میں اسلام آباد میں موجود رہی۔ دونوں جماعتوں کا حکومت سے استعفے، انتخابی عمل میں مبینہ دھاندلی اور نظام میں اصلاحات سمیت مختلف مطالبات پر دباؤ جاری رہا۔ اس احتجاج نے دارالحکومت کی سیاسی تاریخ میں طویل ترین دھرنوں میں سے ایک کی بنیاد رکھی۔
2017 کا فیض آباد دھرنا، مذہبی جماعتوں کا اتحاد اور پی ٹی آئی کی حمایت
نومبر 2017 کا فیض آباد دھرنا بھی سیاسی جماعتوں کے مشترکہ احتجاج کی تاریخ میں اہم مثال ہے۔ ٹی ایل پی اور سنی تحریک سمیت مذہبی سیاسی جماعتیں حکومت کی جانب سے انتخابی کاغذات نامزدگی میں ایک غلطی (جسے بعد میں درست کر دیا گیا) کو لے کر راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والے فیض آباد انٹرچینج پر جمع ہوئیں جس سے جڑواں شہروں کا نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔
احتجاج کے نتیجے میں ایمبولینسز کی آمد تک رُک گئی، اور اس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جب آپریشن کیا گیا تو اُس میں ہلاکتیں بھی ہوئیں۔
بنیادی طور پر ٹی ایل پی اُس احتجاج کی قیادت کر رہی تھی جبکہ دیگر مذہبی سیاسی جماعتیں اُس میں شامل تھیں جبکہ پاکستان تحریکِ انصاف کی سیاسی قیادت نے دھرنے میں شرکت کر کے سیاسی حمایت کا اِظہار کیا تھا۔
2018 کے انتخابات کے بعد اپوزیشن کا مشترکہ احتجاج
جولائی 2018 کے عام انتخابات کے بعد بھی مختلف اپوزیشن جماعتوں نے مبینہ دھاندلی کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے مشترکہ احتجاج کیا۔
مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، متحدہ مجلس عمل اور دیگر جماعتوں کے درمیان انتخابی نتائج پر اعتراضات کے باعث مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق ہوا۔ اُس احتجاج کی قیادت مسلم لیگ ن کے چیئرمین سینیٹر راجا ظفر الحق نے کی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ مجلس عمل، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما احتجاج میں شامل تھے۔
احتجاج میں خواجہ آصف، احسن اقبال، سینیٹر مشاہد حسین سید، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، شیری رحمان، اعتزاز احسن، چوہدری تنویر، مولانا فضل الرحمان، میاں اسلم، نوید قمر، عابد شیر علی، فرحت اللہ بابر اور دیگر شامل تھے۔
2021 پی ڈی ایم، گیارہ جماعتوں کا احتجاج
19 جنوری 2021 کو پی ڈی ایم پر مشتمل گیارہ جماعتوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔
احتجاج کی قیادت جمیعت علمائے اِسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کی تھی۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور دیگر جماعتوں سمیت 11 اپوزیشن جماعتیں اس اتحاد کا حصہ تھیں۔
مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی اختلافات کے باوجود عمران خان کی حکومت کے خلاف مشترکہ سیاسی محاذ تشکیل دیا گیا۔ پی ڈی ایم نے بعد ازاں ملک کے مختلف شہروں میں جلسے اور احتجاج کیے اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا منصوبہ بھی بنایا۔
2019 میں مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ
2019 میں مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں آزادی مارچ بھی اس رجحان کی ایک اور مثال تھا۔ اس موقع پر مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام ف سمیت اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے خلاف مشترکہ سیاسی حکمت عملی پر مشاورت کی۔
اگرچہ تمام جماعتیں ایک ہی شدت سے احتجاج میں شریک نہیں ہوئیں، لیکن اسلام آباد میں حکومت مخالف احتجاج کے لیے اپوزیشن جماعتوں کا تعاون واضح تھا۔
2007-08 میں عدلیہ بحالی تحریک اور سیاسی جماعتوں کا اشتراک
اس سے پہلے 2007 اور 2008 میں وکلا تحریک کے دوران بھی سیاسی جماعتوں اور وکلا کی طاقت ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی نظر آئی۔
آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ یعنی اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے عدلیہ کی بحالی اور صدر پرویز مشرف کی پالیسیوں کے خلاف وکلا کی تحریک کی حمایت کی۔ اس دور میں مسلم لیگ ن، تحریک انصاف سمیت مختلف سیاسی قوتیں ایک وسیع تر سیاسی محاذ کا حصہ بنیں۔
مزید پڑھیں: ضرورت سے زیادہ اعتماد نقصان دیتا ہے، 27 ستمبر کا احتجاج پی ٹی آئی کو 2 سال پیچھے دھکیل دے گا، رانا ثنااللہ
جون 2008 میں وکلا نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا اور سیاسی جماعتوں نے بھی اس مارچ کی حمایت میں کیمپ قائم لگائے، یہ مختلف سیاسی جماعتوں کا مشترکہ دھرنا تھا۔













