ظہران ممدانی کی نیو یارک میں اسٹیٹ ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز

ہفتہ 14 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیو یارک کے میئر ظہران ممدانی نے اسٹیٹ ٹیکس میں ایک متنازعہ تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت اسٹیٹ ٹیکس چھوٹ کی حد 90 فیصد کم کر کے صرف 750,000 ڈالر کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد ریاست کے بجٹ خسارے کو کم کرنا اور ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کرنا بتایا جا رہا ہے، تاہم یہ تجویز عوام اور سیاسی حلقوں میں شدید بحث کا سبب بن گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نیو یارک: وفاقی حکام کی جانب سے سٹی کونسل ملازم کی گرفتاری، میئر ظہران ممدانی کا شدید ردعمل

ظہران ممندانی کی تجویز کے مطابق موجودہ اسٹیٹ ٹیکس چھوٹ، جو تقریباً 7 ملین ڈالر ہے، اسے گھٹا کر 750,000 ڈالر کر دیا جائے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اب زیادہ تر خاندان، جن کے اثاثے ایک لاکھوں ڈالر کی حد میں ہیں، بھی ٹیکس کے دائرہ کار میں آئیں گے۔ ساتھ ہی، ٹاپ اسٹیٹ ٹیکس کی شرح میں بھی اضافہ کیا جائے گا تاکہ بڑے اثاثوں والے افراد پر زیادہ بوجھ ڈالا جا سکے۔

میئر کا کہنا ہے کہ اس تجویز سے نہ صرف ریاستی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ بڑے اثاثوں کے حامل خاندانوں سے زیادہ مساویانہ ٹیکس وصولی ممکن ہوگی۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ بجٹ خسارے کو کم کیا جائے اور نیو یارک کی معیشت مستحکم رہے۔

تاہم اس تجویز کی مخالفت بھی زوروں پر ہے۔ ماہرین اور کاروباری حلقے کہتے ہیں کہ اس سے متوسط طبقے کے خاندانوں پر ٹیکس کا دباؤ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر وہ جو اپنے گھروں یا چھوٹے کاروباروں کی وراثت بچوں کو دینا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ظہران ممدانی نے قرآنِ مجید پر حلف اٹھانے کی تاریخی اہمیت بتا دی

کئی لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس سے سرمایہ کاری اور کاروباری ترقی متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ ٹیکس میں اضافہ سرمایہ کاری کی ترغیب کو کم کرتا ہے۔

سیاسی حلقوں میں بھی یہ مسئلہ تنازع کا سبب بن گیا ہے۔ مخالفین کہتے ہیں کہ یہ اقدام غریب اور متوسط خاندانوں کے لیے اضافی بوجھ پیدا کرے گا، جبکہ حامی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بڑے اثاثوں والے افراد کو زیادہ ٹیکس دینا معاشرتی انصاف کے اصول کے مطابق ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟