نیو یارک کے میئر ظہران ممدانی نے اسٹیٹ ٹیکس میں ایک متنازعہ تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت اسٹیٹ ٹیکس چھوٹ کی حد 90 فیصد کم کر کے صرف 750,000 ڈالر کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
اس اقدام کا مقصد ریاست کے بجٹ خسارے کو کم کرنا اور ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کرنا بتایا جا رہا ہے، تاہم یہ تجویز عوام اور سیاسی حلقوں میں شدید بحث کا سبب بن گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نیو یارک: وفاقی حکام کی جانب سے سٹی کونسل ملازم کی گرفتاری، میئر ظہران ممدانی کا شدید ردعمل
ظہران ممندانی کی تجویز کے مطابق موجودہ اسٹیٹ ٹیکس چھوٹ، جو تقریباً 7 ملین ڈالر ہے، اسے گھٹا کر 750,000 ڈالر کر دیا جائے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اب زیادہ تر خاندان، جن کے اثاثے ایک لاکھوں ڈالر کی حد میں ہیں، بھی ٹیکس کے دائرہ کار میں آئیں گے۔ ساتھ ہی، ٹاپ اسٹیٹ ٹیکس کی شرح میں بھی اضافہ کیا جائے گا تاکہ بڑے اثاثوں والے افراد پر زیادہ بوجھ ڈالا جا سکے۔

میئر کا کہنا ہے کہ اس تجویز سے نہ صرف ریاستی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ بڑے اثاثوں کے حامل خاندانوں سے زیادہ مساویانہ ٹیکس وصولی ممکن ہوگی۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ بجٹ خسارے کو کم کیا جائے اور نیو یارک کی معیشت مستحکم رہے۔
تاہم اس تجویز کی مخالفت بھی زوروں پر ہے۔ ماہرین اور کاروباری حلقے کہتے ہیں کہ اس سے متوسط طبقے کے خاندانوں پر ٹیکس کا دباؤ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر وہ جو اپنے گھروں یا چھوٹے کاروباروں کی وراثت بچوں کو دینا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ظہران ممدانی نے قرآنِ مجید پر حلف اٹھانے کی تاریخی اہمیت بتا دی
کئی لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس سے سرمایہ کاری اور کاروباری ترقی متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ ٹیکس میں اضافہ سرمایہ کاری کی ترغیب کو کم کرتا ہے۔
سیاسی حلقوں میں بھی یہ مسئلہ تنازع کا سبب بن گیا ہے۔ مخالفین کہتے ہیں کہ یہ اقدام غریب اور متوسط خاندانوں کے لیے اضافی بوجھ پیدا کرے گا، جبکہ حامی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بڑے اثاثوں والے افراد کو زیادہ ٹیکس دینا معاشرتی انصاف کے اصول کے مطابق ہے۔














