سعودی عرب کے گھروں میں رمضان کے دوران کافی اور کھجوریں مہمان نوازی اور ثقافتی شناخت کی علامت بن گئی ہیں۔ رمضان سے قبل اور تراویح کے بعد کافی تیار کی جاتی ہے، جس کے لیے ہلکی بھوری حراری کافی کے دانے، لونگ، الائچی اور زعفران استعمال کیے جاتے ہیں۔
مدینہ کے ایک رہائشی الجہانی نے کہا کہ رمضان میں وہ خاص طور پر سگائی اور تازہ رتاب کھجوریں پسند کرتی ہیں۔ سعودی گھروں میں عام طریقہ یہ ہے کہ سورج غروب ہوتے ہی کھجور اور کافی پیش کی جاتی ہے، پھر مغرب کی نماز کے بعد کھانے کی چیزیں اور تراویح کے بعد دوبارہ کافی، اکثر گھریلو مٹھائیوں کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب میں رمضان: ثقافت، روحانیت اور یکجہتی کو سمجھنے کا بہترین موقع
سعودی عرب کے کچھ علاقے جیسے حائل، الجوف اور عسیر سالانہ لاکھوں ٹن کھجور پیدا کرتے ہیں۔ قاسم کی مارکیٹ میں رمضان کے پہلے دنوں میں کھجور کی طلب عروج پر ہوتی ہے اور مارکیٹ کی سرگرمیاں شابان کے وسط سے شروع ہو جاتی ہیں۔ رمضان میں سب سے زیادہ پسندیدہ اقسام میں خلاص، سکری، اجوا، حلوا اور صُفری شامل ہیں، جبکہ اجوا کھجوریں مذہبی اہمیت کے باعث مکہ اور مدینہ میں خاص طور پر پسند کی جاتی ہیں۔
موسمی حالات، علاقائی روایات اور خاندانوں کی پسند بھی صارفین کے انتخاب پر اثر ڈالتی ہیں۔ کچھ علاقوں میں جیسے حائل، مخصوص اقسام جیسے ونان اور حلوت حائل زیادہ مقبول ہیں۔ اگرچہ نئے رجحانات ابھر رہے ہیں اور مہمانوں کے لیے پریمیم پیکنگ اور بھری ہوئی کھجوریں مقبول ہو رہی ہیں، لیکن خلاص اور سکری مارکیٹ کی بنیاد بنی ہوئی ہیں۔
سعودی خاندان رمضان میں کافی اور کھجور کی یہ روایت روزانہ دو بار ادا کرتے ہیں، جو صرف کھانے تک محدود نہیں بلکہ ایمان اور نسلوں کو جوڑنے والی روایت بھی ہے۔














