سال 2026 کے آغاز میں بھارت اور ایران کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی، جب اطلاعات آئیں کہ بھارت نے 3 ایرانی بحری جہاز قبضے میں لے لیے، اس کے جواب میں ایران نے 2 بھارتی جہاز روک لیے۔
بعد ازاں معاملہ حل ہوا اور جہاز آبنائے ہرمز کے راستے واپس جانے کی اجازت حاصل ہوئی، جہاں دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی تجارت ہوتی ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ممالک اپنے اسٹریٹجک مفادات کے مطابق عمل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: علاقائی کشیدگی: پاکستان نے خلیجی ممالک سے ایندھن کی فراہمی کے انتظامات مکمل کرلیے
ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ پاکستان کے اندرونی حالات سے جڑا ہے۔ علاقائی کشیدگی کے لمحات میں ریاست پر حملے کرنے والی اندرونی بیانیہ قومی یکجہتی کو کمزور کر سکتی ہے۔ جب معلوماتی جنگ اور جغرافیائی سیاسی مقابلہ بڑھ رہے ہیں، تو قومی اتحاد پاکستان کی سب سے مضبوط اسٹریٹجک دفاع ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک حساس جیو اسٹریٹجک مقام پر واقع ہے جو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کو جوڑتا ہے، اس لیے اندرونی استحکام قومی سلامتی کی ترجیح ہے۔ متحد قومیں علاقائی کشیدگی کے دوران بین الاقوامی سطح پر اپنے سفارتی اثر و رسوخ اور اسٹریٹجک کریڈیبلیٹی کو مضبوط کرتی ہیں۔ اندرونی بیانیہ تنازعات بیرونی دباؤ کو بڑھا سکتے ہیں، اسی لیے قومی یکجہتی جدید ریاستی سلامتی کی بنیاد میں شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیے: مشرقِ وسطیٰ کشیدگی: پاکستان آنیوالی نقد رقوم میں تقریباً 50 فیصد کمی
پاکستان نے دہائیوں سے دہشت گردی، علاقائی عدم استحکام اور جغرافیائی سیاسی مقابلے کا سامنا کیا، لیکن اس کا ادارہ جاتی ڈھانچہ اور معاشرہ مضبوطی سے قائم ہے۔ ذمہ دار قومی مکالمہ پاکستان کی خودمختاری اور طویل المدتی استحکام کو پارٹی پالیسیز سے بالاتر رکھتا ہے۔
ہائبرڈ وارفیئر کے دور میں قوم کی رائے کو تقسیم کرنا دشمنانہ معلوماتی مہمات کا پہلا مقصد ہوتا ہے۔ سادہ اور اسٹریٹجک اصول یہ ہے کہ جب پاکستان متحد ہوتا ہے، تو کوئی بیرونی دباؤ اس کی پوزیشن کو کمزور نہیں کر سکتا۔














