رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ جو لوگ اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان سے ملاقات کے لیے نعرے لگاتے ہیں وہ خود ہی نہیں چاہتے کہ یہ ملاقات ہو۔
رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کے گھر پر عید منانے سے متعلق دعوے درست معلوم نہیں ہوتے اور موجودہ سیاسی صورتحال میں ان کی رہائی کے امکانات واضح نظر نہیں آتے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے 120 ارکان سے زبردستی پارٹی چھڑوائی گئی، شیرافضل مروت
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی سب سے بڑی غلطی علی امین کو ہٹانا تھی، کیونکہ ان کو وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کے بعد تمام دروازے بند ہو گئے۔ ان کے مطابق عمران خان کو جن لوگوں سے امیدیں تھیں وہ اب مختلف سمت میں جاچکے ہیں اور پارٹی کے اندر ایسے عناصر موجود ہیں جو عمران خان کی ملاقاتیں محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض لوگ خود یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں عمران خان سے نہ ملوایا جائے تاکہ وہ تحریک کے حوالے سے کوئی ہدایات جاری نہ کرسکیں۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ علی امین کے مقابلے میں پارٹی کے اندر ہی یہ بات کی جا رہی ہے کہ سہیل آفریدی عوام میں زیادہ مقبول ہیں، تاہم اگر کوئی بھی رہنما عملی طور پر عوام کے درمیان جائے تو اس کی اصل مقبولیت سامنے آجائے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض رہنماؤں نے اپنی پوری ٹیم سوشل میڈیا خصوصاً ٹک ٹاک پر بنا رکھی ہے اور مختلف گروپس ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر مہم چلاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: علیمہ خان کے بیٹوں کو گرفتارکروانے کاالزام، شیرافضل مروت بولے پڑے
پی ٹی آئی کی جیل سے باہر قیادت میں تبدیلی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ کسی تبدیلی کی توقع نہیں اور عمران خان غلط لوگوں کے ہاتھوں میں چلے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں احتجاج، مارچ اور سیاسی سرگرمیوں کے باوجود کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ اور کے پی ہاؤس کے باہر ہونے والے احتجاجوں میں صرف 150 سے 200 افراد شریک تھے، ایسے احتجاج کسی مؤثر سیاسی دباؤ کے طور پر شمار نہیں کیے جا سکتے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے اجتماعات تو عام دکانوں کے باہر بھی دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شیرافضل مروت کی پی ٹی آئی میں واپسی کے امکانات روشن ہوگئے
شیر افضل مروت نے کہا کہ عمران خان کو اپنی قیادت اور سیاسی سمت پر خود نظرثانی کرنا ہوگی اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی، ورنہ موجودہ طریقہ کار سے کوئی بڑا سیاسی نتیجہ سامنے نہیں آئے گا۔













