بلوچستان میں امن و استحکام کے قیام کے لیے فیڈرل کانسٹیبلری کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
کوئٹہ میں امن و امان سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مشترکہ طور پر کی۔ اجلاس میں وفاقی اور صوبائی اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں: بلوچستان کے ضلع واشک میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 3 دہشتگرد ہلاک
اجلاس کے دوران امن و امان کی مجموعی صورتحال، افغان مہاجرین کی واپسی، حوالہ ہنڈی، بھتہ خوری اور اسمگلنگ کے خاتمے سمیت مختلف امور پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں بلوچستان میں قیام امن کے لیے فیڈرل کانسٹیبلری کی نفری تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں وفاقی کانسٹیبلری کے 2 ونگز پر مشتمل تقریباً 3 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کو صوبے میں مزید فعال بنایا جائے گا اور خالی آسامیوں پر مقامی افراد کی بھرتی کی جائے گی۔
اس کے علاوہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ریاست مخالف سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔
اجلاس میں ریاست کے خلاف سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بے بنیاد پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق وفاقی حکومت نے بلوچستان حکومت کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ بلوچستان پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا اور صوبے میں امن کے قیام کے لیے وفاقی حکومت مکمل معاونت کرے گی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہاکہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پوری قوت اور عزم کے ساتھ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے اور ریاست کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہاکہ آج بلوچستان میں کوئی شاہراہ احتجاج کے نام پر بند نہیں ہونے دی جاتی اور امن کی بحالی کے لیے وفاقی حکومت کی معاونت قابلِ ستائش ہے۔














