انسان ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہم غلطیاں کرتے ہیں۔ کبھی کوئی لفظ غلط نکل جاتا ہے، کبھی کوئی فیصلہ غلط ہو جاتا ہے، اور کبھی کوئی ایسا عمل ہو جاتا ہے جس کا بوجھ دل پر رہ جاتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ غلطی ختم ہو جاتی ہے، مگر اس کی یاد انسان کے ذہن میں بار بار واپس آتی رہتی ہے۔ انسان خود سے سوال کرتا ہے کج مجھ سے یہ کیسے ہو گیا؟ کیا اللہ مجھے معاف کریں گے؟
کبھی کبھی اصل مسئلہ غلطی نہیں ہوتی بلکہ اس کے بعد پیدا ہونے والا احساسِ جرم ہوتا ہے۔ نفسیات کے مطابق guilt اور shame میں ایک اہم فرق ہوتا ہے۔
گِلٹ یہ کہتا ہے: میں نے غلط کام کیا۔
جبکہ شیم یہ کہتا ہے: میں ہی غلط ہوں۔
جب guilt حد سے بڑھ جائے تو وہ آہستہ آہستہ انسان کی شناخت کو متاثر کرنے لگتا ہے۔ انسان خود کو ہی ناقابلِ اصلاح سمجھنے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام انسان کو مایوسی سے بچاتا ہے اور اسے واپسی کا راستہ دکھاتا ہے۔














