افغان طالبان کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت کے کابل میں امید ایڈکشن اسپتال پر فضائی کارروائی کے الزامات حقیقت سے بعید ہیں۔ طالبان کے دعوے 400 ہلاک اور 250 زخمی ہونے کے ہیں، تاہم حکام کے مطابق یہ کارروائیاں مکمل طور پر انٹیلی جنس پر مبنی، درست اور محدود تھیں، جو دہشت گردوں کے ٹھکانے، لاجسٹک نیٹ ورک اور سرحدی حملوں میں ملوث بنیادی ڈھانچے تک محدود تھیں۔
سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی پروپیگنڈا واضح نمونہ اختیار کر چکی ہے: دہشت گرد موجودگی سے انکار، ہدف کو اسپتال یا پناہ گاہ کے طور پر پیش کرنا، ہلاکتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور ہمدردی کے جذبات پیدا کرنا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امید ایڈکشن اسپتال جیسی کہانیاں اب معمول بن چکی ہیں، ہر دہشت گرد سے منسلک مقام کو انسانی سہولت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواج پاکستان کو خراج تحسین
یہ دعوے صرف ان مقامات پر حملوں کے بعد سامنے آتے ہیں جو پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری سے جڑے ہوتے ہیں۔ طالبان نے شہری علاقوں میں دہشت گردوں کو چھپنے کی اجازت دے رکھی ہے اور بعد میں اس کا فائدہ پروپیگنڈا اور مظلومیت کے بیانیے کے لیے اٹھاتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے تحت دہشت گرد گروپس، بشمول ٹی ٹی پی، القاعدہ اور دیگر علاقائی تنظیمیں آزادانہ ماحول میں کام کر رہی ہیں۔ 2025 میں ٹی ٹی پی کے 600 سے زائد حملے افغان علاقے سے انجام دیے گئے، جس سے پاکستان کو براہ راست نقصان پہنچا جن میں 1957 ہلاکتیں اور 3603 زخمی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: آپریشن غضب للحق: پاک افواج کی افغانستان میں کامیاب فضائی کارروائیاں، ایمونیشن اور ٹیکنیکل انفرااسٹرکچر تباہ
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور سفارتی راستے استعمال کیے، تاہم دہشت گرد بنیادی ڈھانچے کے خلاف کارروائی قانونی اور ضروری دفاع کے طور پر کی گئی۔ طالبان کی بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی ہلاکتوں کی رپورٹیں حقیقت میں انسانی ہمدردی کا معاملہ نہیں بلکہ دہشت گرد بنیادی ڈھانچے کو بچانے اور اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ کسی اسپتال یا شہریوں کے بارے میں نہیں، بلکہ دہشت گردی اور اس کے خلاف کارروائی میں طالبان کی عدم تعاون اور ان کے پروپیگنڈا بیانیے پر مرکوز ہے۔














