خیبرپختونخوا: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی عمران خان سے ملاقات کی راہ ہموار کرنے کے لیے سرگرم، کیا برف پگھل رہی ہے؟

بدھ 18 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے جیل میں ملاقات کی راہ ہموار کرنے اور عید کے موقع پر ملاقات کے لیے سرگرم ہوگئے ہیں۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی پشاور کی نسبت اسلام آباد میں زیادہ سرگرم ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ عمران خان سے ملاقاتوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو، جو ان کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد سے بند ہے۔

مزید پڑھیں: عمران خان کے بیٹوں کو فوری ملاقات کی اجازت دی جائے، جمائمہ خان کی شہباز شریف سے اپیل

ذرائع نے بتایا کہ سہیل آفریدی کے ساتھ عمران خان کی بہن علیمہ خان بھی دیکھی جا رہی ہیں، جو طاقتور حلقوں کے ذریعے ملاقات کی خواہاں ہیں۔ ’میری معلومات کے مطابق سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں اہم ملاقاتیں کی ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی کو عمران خان کی بہن علیمہ خان کی بھی حمایت حاصل ہے۔ ’علیمہ خان بھی ایک ملاقات میں شریک تھیں، لیکن بات کس حد تک آگے بڑھی، اس بارے میں زیادہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔‘

کیا سہیل آفریدی احتجاجی تحریک سے پیچھے ہٹ جائیں گے؟

سہیل آفریدی کی اہم ملاقاتیں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب وہ عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے حوالے سے ملک گیر تحریک کی تیاری کررہے ہیں اور عید کے بعد باقاعدہ عمران خان رہائی فورس بھی تشکیل دے رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقاتوں میں عمران خان سے ملاقات اور بہتر علاج تک رسائی کے حوالے سے بھی بات ہوئی۔

جبکہ کچھ حلقوں نے عمران خان رہائی فورس اور صوبائی حکومت کے وسائل کو احتجاجی تحریک اور دھرنوں میں استعمال کرنے پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔

ایک اور ذریعے نے بتایا کہ ملاقاتوں میں سہیل آفریدی کو بتایا گیا کہ عمران خان سے ملاقات کا انحصار پی ٹی آئی پر ہے۔

انہوں نے کہاکہ کچھ ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن کی وجہ سے ملاقاتوں پر غیر اعلانیہ پابندی لگ گئی ہے۔ جبکہ سہیل آفریدی کی جانب سے عید کے بعد تحریک شروع کرنے پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ سہیل آفریدی ممکنہ طور پر عید کے بعد تحریک چلانے سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں، جبکہ عید کے دنوں میں یا عید کے فوراً بعد ملاقات کا اشارہ بھی دیا گیا ہے۔

سہیل آفریدی نے کیا مطالبات رکھے ہیں؟

ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتوں میں سہیل آفریدی نے دو اہم مطالبات پیش کیے ہیں، جو صرف طاقتور حلقے ہی پورے کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی نے عمران خان کے ذاتی معالج کو عمران خان تک رسائی، بہتر علاج اور اہلِ خانہ اور اہم پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت کے مطالبات پیش کیے ہیں، جن پر باقاعدہ کوئی وعدہ نہیں کیا گیا، تاہم بات آگے بڑھ رہی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ سہیل آفریدی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ عمران خان کی آنکھ کا بہتر علاج ہو رہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ابھی تک سہیل آفریدی کی ان ملاقاتوں پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم پارٹی قیادت بیک ڈور رابطوں اور مذاکرات کی تردید کررہی ہے۔ چند دن پہلے مرکزی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے بیک ڈور مذاکرات یا رابطوں کی تردید کی تھی۔

میڈیا سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ کسی سے بھی کوئی مذاکرات یا بیک ڈور رابطے نہیں ہیں اور پی ٹی آئی عدالتوں میں کیسز کا سامنا کررہی ہے۔

سہیل آفریدی کے بیک ڈور رابطے، کیا برف پگھل رہی ہے؟

پی ٹی آئی اور عمران خان کی بہنوں نے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں کیسز کو جلد سننے اور سماعت کو تیز کرنے کے لیے وکلا ٹیم میں بھی تبدیلی کی ہے اور بیرسٹر اعتزاز احسن کو بھی عمران خان کا وکیل مقرر کیا گیا ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عمران خان کی رہائی احتجاج کی نسبت مذاکرات سے زیادہ ممکن ہے۔

عارف حیات پشاور کے سینیئر صحافی ہیں جو سیاسی معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی کے بیک ڈور رابطے اب دوبارہ بحال ہو گئے ہیں۔ ’علی امین گنڈاپور کے دور میں پی ٹی آئی کے مقتدر حلقوں سے بہتر روابط تھے، جو سہیل آفریدی کے آنے کے بعد ختم ہو گئے تھے۔‘

انہوں نے کہاکہ جب تک رابطے بحال تھے، حالات بھی بہتر تھے، عمران خان سے ملاقاتیں بھی ہوتی تھیں اور پی ٹی آئی اپنے مطالبات بھی منوا رہی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ بننے کے بعد جذباتی تھے اور ان کے خلاف جو پروپیگنڈا کیا گیا، اس پر بھی ناراض تھے، جو ان کی طاقتور حلقوں سے دوری کی ایک وجہ بنی، لیکن اب شاید انہیں اندازہ ہوگیا ہے۔

عارف نے بتایا کہ سہیل آفریدی کا بھی ایک رابطہ بحال ہوا ہے اور بیک ڈور رابطے ہو رہے ہیں، جس سے حالات اب بہتری کی طرف آتے نظر آ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مقتدر حلقے موجودہ جنگی صورتِ حال میں احتجاجی تحریک کے حق میں نہیں ہیں اور سہیل آفریدی پر بھی دباؤ ہے کہ احتجاج نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہاکہ طاقتور حلقوں کی جانب سے سہیل آفریدی کو واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ ان حالات میں اندرونی انتشار سے ملک کو نقصان ہوگا اور پی ٹی آئی کو دھرنوں یا احتجاج سے گریز کرنا چاہیے۔

’لگ رہا ہے کہ معاملات طے ہو گئے ہیں اور ملاقات بھی ہو جائے گی۔‘

انہوں نے کہاکہ عمران خان کے بیٹے بھی پاکستان آنا چاہتے ہیں اور سہیل آفریدی ان کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ ان کی عمران خان سے ملاقات ممکن ہو سکے۔

نوجوان صحافی شہاب الرحمان کا ماننا ہے کہ عمران خان سے ملاقات شاید اتنی آسان نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی شروع دن سے عمران خان سے ملاقات کی کوشش میں ہیں اور ان کی خفیہ ملاقات کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں، لیکن تصدیق نہ ہو سکی۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا عمران خان سے ملاقات تک وزیراعظم کی جانب سے بلائے گئے اجلاس میں شرکت سے انکار

’سہیل آفریدی سے مقتدر حلقے خوش نہیں ہیں اور سہیل آفریدی بھی ان سے خوش نہیں۔ ان دنوں دونوں جانب سے معاملات کو ٹھیک کرنے کی کوشش جاری ہے۔‘

شہاب الرحمان نے کہاکہ عمران خان کی بہنوں کی وجہ سے ملاقاتوں پر غیر اعلانیہ پابندی ہے اور سہیل آفریدی یقین دہانیوں میں مصروف ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عالمی سیاسی صورتِ حال کیسے پاکستانی فری لانسرز اور کمپنیوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے؟

نہال ہاشمی کے گورنر سندھ بننے سے صوبے اور کراچی کی سیاست میں کیا تبدیلی آئے گی؟

ایوان صدر میں قومی اعزازات کی تقریب 28 اپریل کو منعقد ہوگی، نوٹیفکیشن جاری

پشاور کے سب سے بڑے افطار دسترخوان کا مینیو: مچھلی، چھوٹا گوشت، پلاؤ، مگر یہ سب ممکن کیسے ہوتا ہے؟

کوئٹہ: رمضان المبارک کی راتوں میں کس قسم کی محفلیں سجتی ہیں؟

ویڈیو

پشاور کے سب سے بڑے افطار دسترخوان کا مینیو: مچھلی، چھوٹا گوشت، پلاؤ، مگر یہ سب ممکن کیسے ہوتا ہے؟

کوئٹہ: رمضان المبارک کی راتوں میں کس قسم کی محفلیں سجتی ہیں؟

خطے کے دفاع کے لیے پاکستان، مصر اور ترکیہ کو قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا، سفارتکار جاوید حفیظ

کالم / تجزیہ

افغانوں کی تباہی کے ذمہ دار فسادی افغان طالبان ہیں

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ