پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے گاڑی مالکان کو متبادل راستہ دکھا دیا

بدھ 18 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران جنگ کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے دنیا بھر میں کار ساز کمپنیوں، ڈیلرز اور گاڑی مالکان میں بے چینی پیدا کر دی ہے، تاہم اس صورتحال نے کچھ شعبوں کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کیے ہیں، خاص طور پر الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کی مارکیٹ میں۔

ای وی ڈیلرز کی فروخت میں اچانک اضافہ

لندن کے جنوب مغرب میں استعمال شدہ الیکٹرک گاڑیوں کے ڈیلر مارٹن ملر کے مطابق، 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد ان کے کاروبار میں غیر معمولی تیزی آئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی دکان پر ایک ہفتے کے اندر سب سے زیادہ رش دیکھنے میں آیا۔

ان کے مطابق صارفین بڑھتی ہوئی پیٹرول قیمتوں سے پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ تیزی سے الیکٹرک گاڑیاں خرید رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مستقبل کی طلب کو دیکھتے ہوئے وہ نیلامیوں سے بڑی تعداد میں الیکٹرک گاڑیاں خرید رہے ہیں۔

عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ میں پیٹرول کی قیمت میں 7 فیصد جبکہ یورپی یونین میں 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے الیکٹرک گاڑیوں کی فہرست میں نورا ای وی کا اضافہ، قیمت کیا ہے؟

اسی طرح امریکا میں فی گیلن پیٹرول کی اوسط قیمت 27 فیصد اضافے کے ساتھ 3.72 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں شپنگ کی رکاوٹ ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔

صارفین کا رویہ کیسے بدلتا ہے؟

ماضی میں بھی تیل کی قیمتوں میں اضافہ صارفین کے رجحانات کو متاثر کرتا رہا ہے۔ 1970 کی دہائی کے توانائی بحران کے دوران امریکی خریدار چھوٹی اور کم ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں کی طرف مائل ہو گئے تھے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں بھی صارفین کا رویہ بدل سکتا ہے، تاہم اس کے لیے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اور نمایاں اضافہ ضروری ہے۔ ماہر کیون رابرٹس کے مطابق صارفین عام طور پر ایک مخصوص حد (مثلاً 4 ڈالر فی گیلن) عبور ہونے پر ردعمل دیتے ہیں۔

بعض صارفین نے فوری فیصلہ کر لیا

بعض صارفین نے پہلے ہی الیکٹرک کاریں خریدنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ ایک امریکی صارف زیک زیویئر نے اپنی پیٹرول گاڑی فروخت کر کے الیکٹرک گاڑی خرید لی اور ایک دوسری ای وی بھی لے لی۔ ان کے مطابق وہ بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پہلے ہی اس تبدیلی کو اختیار کرنا چاہتے تھے۔

امریکا میں تبدیلی سست، یورپ میں تیزی کا امکان

اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں ابھی تک الیکٹرک گاڑیوں کی طرف واضح رجحان نہیں دیکھا گیا، جبکہ یورپ میں صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔ گزشتہ سال یورپ میں کل گاڑیوں کی فروخت میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ 19.5 فیصد رہا۔

یہ بھی پڑھیے پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے بعد پرانی موٹر سائیکلوں کو الیکٹرک بنانے کا رجحان بڑھ گیا

جرمنی میں ایک آن لائن ڈیلر نے جنگ کے بعد الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق ٹریفک میں 40 فیصد اضافہ رپورٹ کیا، جبکہ ایک سروے کے مطابق 48 فیصد افراد نے کہا کہ بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتیں انہیں الیکٹرک یا ہائبرڈ گاڑی خریدنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔

کار ساز کمپنیوں کا ردعمل

کار ساز کمپنیاں بھی اس بدلتی صورتحال کے مطابق حکمت عملی بنا رہی ہیں۔ ویتنامی کمپنی وِن فاسٹ نے پیٹرول گاڑیوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقل ہونے والے صارفین کے لیے خصوصی رعایتیں متعارف کرائی ہیں۔

بڑی تبدیلی کے لیے مزید مہنگائی ضروری

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا میں بڑے پیمانے پر تبدیلی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پیٹرول کی قیمتیں مزید نہ بڑھیں۔ تحقیق کے مطابق زیادہ تر امریکی صارفین اس وقت الیکٹرک گاڑیوں کی طرف جائیں گے جب قیمت 6 ڈالر فی گیلن تک پہنچ جائے۔

ماہر اسٹیفنی ویلڈیز کے مطابق اگر فوری ضرورت نہ ہو تو صارفین نئی گاڑی خریدنے کے فیصلے کو مؤخر بھی کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد کی خواتین کے لیے مفت اسکوٹی ٹریننگ پروگرام کا اعلان

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

پاکستان کو بدنام کرنے کی نئی سازش پکڑی گئی، طالبان انٹیلی جنس  کا اعترافی بیانات پر مبنی منفی منصوبے پر کام جاری

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں