امریکی نابالغوں میں آن لائن جوا عام، ماہرین نے خبردار کردیا

جمعرات 19 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں ہائی اسکول اور مڈل اسکول کے طلبا میں آن لائن جوا عام ہوتا جا رہا ہے، جس کے خطرناک نتائج سامنے آرہے ہیں۔

28 سالہ نوجوان سول میلک نے کلیولینڈ کے یونیورسٹی اسکول میں طلبا کو آن لائن گیمز اور کھیلوں کی شرط بازی کے خطرات سے آگاہ کیا۔ میلک نے بتایا کہ انہوں نے اپنی نوعمری میں صرف ایک $10 کی شرط سے جوا شروع کیا، جو 21 سال کی عمر تک $25 ہزار کے نقصان اور خودکشی کے خیالات تک پہنچ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: آن لائن جوا بڑھتی ہوئی وبا: اٹلی کا شہری زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہوگیا

میلک نے طلبا کو بتایا کہ’آپ اس وقت بھی نقصان اٹھا رہے ہوتے ہیں جب آپ کو اس کا احساس نہیں ہوتا۔‘

رپورٹس کے مطابق، امریکا میں ایک سروے کے مطابق 11 سے 17 سال کے ایک تہائی لڑکوں نے گزشتہ سال جوا کھیلا، جس میں آن لائن اسپورٹس بیٹنگ، لاٹری اور دوستوں کے ساتھ پوکر شامل تھا۔ دیگر سرویز سے ظاہر ہوا ہے کہ تقریباً 10 فیصد بچوں میں مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے، جو ان کی تعلیم اور ذاتی زندگی متاثر کرتا ہے۔

23 سالہ نوجوان کرت فریڈن برگ 11 سال کی عمر میں آن لائن جوا کھیلنے لگا اور کالج تک 15 گھنٹے روزانہ شرط بازی میں صرف کرنے لگا۔ اس نے بتایا کہ جوا ان کی زندگی کا سب سے بڑا نشہ بن گیا اور وہ اپنی صحت اور تعلیم کو بھی نظر انداز کررہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: آن لائن جوے کی تشہیر کا الزام، معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن جوا ایپس نابالغوں کے لیے آسانی سے دستیاب ہیں، جبکہ والدین اکثر اس سے لاعلم رہتے ہیں۔ کچھ ایپس میں فیس آئی ڈی یا والدین کی معلومات کے بغیر بھی شرط لگائی جاسکتی ہے، اور بعض کریپٹو کیسینوز بالکل بغیر ضابطہ ہیں۔

کچھ ریاستوں میں اب ہائی اسکول طلبا کے لیے مخصوص نصاب تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ اسپورٹس بیٹنگ اور ڈیلی فینٹسی کھیلوں میں نقصان سے محفوظ رہیں۔

سول میلک کے مشورے پر ایک طالب علم نے اپنا جوا ایپ ڈیلیٹ کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ وہ مزید لالچ سے محفوظ رہ سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp