سابق ہیڈ کوچ گیری کرسٹن نے پاکستانی کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم کے ساتھ کام کرنا ان کے لیے ایک خوشگوار تجربہ رہا۔
یہ بھی پڑھیں: گیری کرسٹن نے پاکستان کرکٹ ٹیم سے علیحدگی کی اصل وجوہات بتا دیں
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے کرکٹرز کی طرح پاکستانی کھلاڑی بھی باصلاحیت اور پروفیشنل ہیں اور ان کے ساتھ کام کرنا مثبت اور تعلیمی تجربہ تھا۔
’زبان کا فرق آڑے نہیں آیا‘
گیری کرسٹن نے کہا کہ اگرچہ زبان کا فرق موجود تھا لیکن کرکٹ ایک ایسی مشترکہ زبان ہے جو کھلاڑیوں کو جوڑتی ہے اور کھیل کے دوران مؤثر رابطے میں مدد دیتی ہے۔
کوچنگ کے دوران مشکلات
پاکستان میں اپنے مختصر دور کوچنگ کے حوالے سے انہوں نے اعتراف کیا کہ باہر سے غیر معمولی مداخلت اور دباؤ نے حالات کو مشکل بنا دیا۔
مزید پڑھیے: گیری کرسٹن مستعفیٰ، ’عاقب جاوید حالات خراب کر رہے ہیں‘، کرکٹ پرستار پھٹ پڑے
گیری کرسٹن نے بتایا کہ ایسے ماحول میں کوچ کے لیے حکمت عملی بنانا اور کھلاڑیوں پر اس پر عمل کروانا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیم کی خراب کارکردگی پر فوری اور سخت ردعمل یا تادیبی اقدامات مجموعی ماحول کو متاثر کرتے ہیں اور عدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔
کوچ تبدیل کرنا کیسا؟
گیری کرسٹن نے واضح کیا کہ جب ٹیم توقعات پر پورا نہ اترے تو کوچ کو محدود کرنا یا تبدیل کرنا آسان سمجھا جاتا ہے لیکن یہ رویہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا۔
مزید پڑھیں: بابر اعظم کو نمیبیا کیخلاف بیٹنگ آرڈر میں نیچے کیوں بھیجا گیا؟ ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے بتا دیا
انہوں نے زور دیا کہ اگر کسی کوچ کو ذمہ داری سونپی جائے تو اسے اپنی حکمت عملی کے مطابق کام کرنے کی مکمل آزادی دی جانی چاہیے تاکہ ٹیم کے بہتر نتائج اور کھلاڑیوں کی ترقی ممکن ہو سکے۔













