دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے انسٹاگرام کے ڈائریکٹ میسجز (ڈی ایمز) میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد صارفین کی سیکیورٹی اور ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انسٹاگرام کی ڈائریکٹ میسجنگ سسٹم میں بڑی خرابی، ہزاروں صارفین متاثر
کمپنی کے مطابق یہ فیصلہ 8 مئی سے نافذ ہوگا اور اس کی بنیادی وجہ اس فیچر کا کم استعمال بتایا جا رہا ہے۔
میٹا کا کہنا ہے کہ بہت کم صارفین نے انسٹاگرام پر انکرپٹڈ میسجنگ کو اپنایا جبکہ محفوظ رابطے کے لیے صارفین واٹس ایپ استعمال کر سکتے ہیں۔
ماہرین اور ناقدین کی تشویش
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے عالمی سطح پر اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے معیار کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور دیگر ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اسی راستے پر چل سکتی ہیں۔
#Meta pulls plug on end-to-end encryption for #Instagram DMshttps://t.co/xvO99ml4lW
— News9 (@News9Tweets) March 14, 2026
ماہرین کے مطابق اگر ایک بڑی کمپنی اس سیکیورٹی فیچر سے پیچھے ہٹتی ہے تو اس کے اثرات پوری صنعت پر پڑ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: واٹس ایپ میں انسٹاگرام کی طرح ’کلوز فرینڈز‘ فیچر متعارف کرانے کی تیاری
ناقدین کا کہنا ہے کہ انسٹاگرام پر یہ فیچر ابتدا سے ہی نمایاں انداز میں پیش نہیں کیا گیا جس کے باعث صارفین اس سے زیادہ واقف نہیں ہو سکے۔
بعض ماہرین نے اس فیصلے کو صارفین کی پرائیویسی کے حوالے سے تشویشناک قرار دیا ہے۔
پرائیویسی کے وعدوں پر سوالات
ماہرین کے مطابق اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا خاتمہ صارفین کے نجی پیغامات کو زیادہ خطرے میں ڈال سکتا ہے جبکہ یہ اقدام ڈیجیٹل پرائیویسی کے اصولوں کے برعکس سمجھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ویرات کوہلی کا انسٹاگرام اکاؤنٹ اچانک غائب، مداح حیران
واضح رہے کہ مارک زکربرگ اس سے قبل میسجنگ پلیٹ فارمز پر صارفین کی پرائیویسی کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں تاہم حالیہ فیصلہ ان وعدوں کے برعکس قرار دیا جا رہا ہے۔














