ایک نئی بحث نے سوشل میڈیا اور سائنسی حلقوں میں توجہ حاصل کر لی ہے، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ہماری کائنات کسی دھماکے کے بجائے ایک دوسری متوازی کائنات سے ٹکرانے کے نتیجے میں بنی، تاہم ماہرین کے مطابق اس نظریے کے مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کائنات کا انجام بدل سکتا ہے؟ ڈارک انرجی پر چونکا دینے والی تحقیق
مختلف سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے ایک پرانا نظریہ دوبارہ زیرِ بحث آ گیا ہے، جس کے مطابق کائنات کا آغاز ایک ہی نقطے کے دھماکے (Big Bang) سے نہیں ہوا بلکہ یہ ایک اور کائنات سے ٹکراؤ کا نتیجہ تھا۔
NEWS🚨: Big Bang wasn't an explosion from a point. It was fiery collision between our universe and another parallel universe in a higher dimension, new study reveals. pic.twitter.com/3MAWQnsfIL
— All day Astronomy (@forallcurious) March 22, 2026
اس نظریے کے مطابق ہماری کائنات ایک ’ہائی ڈائمینشن‘ میں موجود کسی دوسری متوازی کائنات سے ٹکرائی، اور اس ٹکراؤ سے پیدا ہونے والی توانائی نے وہ مادہ اور روشنی بنائی جو آج ہماری کائنات میں موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ خیال 2001 میں پیش کیے گئے ایک نظریے (Ekpyrotic model) سے ملتا جلتا ہے، لیکن اس کے حق میں اب تک کوئی ٹھوس سائنسی ثبوت موجود نہیں۔ جدید مشاہدات اور سائنسی ڈیٹا اب بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ کائنات تقریباً 13.8 ارب سال پہلے ’بگ بینگ‘ کے ذریعے بنی تھی۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ متبادل نظریہ دلچسپ ہے، لیکن فی الحال اسے صرف ایک قیاسی خیال سمجھا جاتا ہے، نہ کہ ثابت شدہ حقیقت۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس نظریے کو لے کر بحث اور مختلف آرا کا سلسلہ جاری ہے۔













