کائنات کا انجام بدل سکتا ہے؟ ڈارک انرجی پر چونکا دینے والی تحقیق

بدھ 31 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنوبی کوریا کے محققین کی ایک ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ ڈارک انرجی سے تعبیر کی جانیوالی ایک پراسرار قوت کائنات کو اس انداز میں متاثر کر رہی ہے کہ مستقبل میں وہ سکڑ کر تباہ بھی ہو سکتی ہے، جسے سائنس کی زبان میں ’بِگ کرنچ‘ کہا جاتا ہے۔

سیول کی یونسی یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی تازہ تحقیق کے مطابق کائنات مسلسل پھیلنے کے بجائے اب سست روی کا شکار ہو چکی ہے اور ممکن ہے کہ کششِ ثقل کے باعث کہکشائیں دوبارہ ایک دوسرے کی طرف کھنچنا شروع ہو جائیں، جو بالآخر کائنات کے خاتمے پر منتج ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کائنات کے راز کھولنے والا انقلابی آلہ ’فروسٹی‘ تیار کرلیا گیا

محققین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت فلکیات میں گزشتہ کئی دہائیوں کی سب سے بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

ان کے مطابق بگ بینگ کے بعد وجود میں آنے والی کائنات اب تیز رفتاری سے پھیل نہیں رہی بلکہ ڈارک انرجی کے بدلتے اثرات کے باعث اس کی توسیع سست پڑتی جا رہی ہے۔

تحقیق کے سربراہ پروفیسر ینگ ووک لی کے مطابق ان کی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ دور میں کائنات سست رفتار توسیع کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور ڈارک انرجی وقت کے ساتھ پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

مزید پڑھیں: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

’۔۔۔اگر یہ نتائج درست ثابت ہو گئے تو یہ 27 سال قبل ڈارک انرجی کی دریافت کے بعد کاسمولوجی میں ایک بڑا نظریاتی انقلاب ہوگا۔‘

ڈارک انرجی کیا ہے؟

ماضی میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ کششِ ثقل کے باعث کائنات کی توسیع بتدریج سست ہو جائے گی، تاہم 1998 میں ماہرینِ فلکیات نے ڈارک انرجی کے شواہد دریافت کیے، جسے کائنات کی تیز رفتار توسیع کی بنیادی وجہ سمجھا جاتا ہے۔

کچھ نظریات کے مطابق اگر کائنات اسی طرح پھیلتی رہی تو ستارے ایک دوسرے سے اتنی دور ہو جائیں گے کہ رات کے آسمان میں کچھ نظر ہی نہیں آئے گا، جبکہ بعض سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ قوت ایٹمز کو بھی چیر سکتی ہے، جسے ’بِگ رِپ‘ کہا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: کیا ہم اگلی دہائی میں خلائی مخلوق کا سراغ پا لیں گے؟

مارچ میں ایریزونا کے صحرا میں نصب ڈارک انرجی اسپیکٹرواسکوپک انسٹرومنٹ یعنی ڈیسی سے حاصل ہونے والے نتائج نے بھی وقت کے ساتھ کہکشاؤں کی رفتار میں تبدیلی کے شواہد فراہم کیے ہیں۔

ڈیسی منصوبے سے وابستہ یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر اوفر لہاو کے مطابق ڈارک انرجی کے بڑھنے اور پھر کم ہونے کے آثار ایک نئے میکنزم کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں، جو پوری طبیعیات کے لیے ہلچل مچا سکتے ہیں۔

تاہم کیمبرج یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرونومی سے تعلق رکھنے والے سینیئر ماہرِ فلکیات پروفیسر جارج ایفستھیاؤ سمیت بعض سائنس دانوں نے پروفیسر لی کے نظریے سے اختلاف کرتے ہوئے مزید شواہد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسٹاک ایکسچینج ایک بار پھر منفی زون میں، انڈیکس میں 600 پوائنٹس کی کمی

اب میرا نام لیا تو عدالت لے جاؤں گی، علیزے شاہ کی یاسر نواز کو آخری وارننگ

پائیدار اور بااختیار بلدیاتی نظام کے لیے قومی ڈائیلاگ ضروری، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ

طالبان حکومت کی بھارت میں پہلی باضابطہ سفارتی تعیناتی، تعلقات میں بہتری کا عندیہ

رکن اسمبلی نور عالم خان کا شناختی کارڈ منسوخ، بینک اکاؤنٹس بھی منجمد، وجہ کیا ہے؟

ویڈیو

اسلام آباد گیس لیکج حادثہ، ‘میرا سب ختم ہوگیا، گھر واپس کیسے جائیں گے’

اسلام آباد کی سردی میں سوپ کے لیے لمبی قطاریں، اس میں خاص کیا ہے؟

سانحہ 9 مئی: سہیل آفریدی کی موجودگی ثابت، ایف آئی آر میں نامزد نہ کیا گیا تو عدالت سے رجوع کریں گے، وکیل ریڈیو پاکستان

کالم / تجزیہ

امریکی یلغار: تصویر کے 3 رخ

وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا

ہیرا ایک ہی ہے