بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف اور جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں فسطائیت کا بڑا حصہ ختم ہو چکا ہے، تاہم اس کے اثرات اور سائے ابھی باقی ہیں اور ملک سیاسی و سماجی بحران سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: لیفٹیننٹ جنرل مشفیق الرحمان نے بطور پرنسپل اسٹاف آفیسر عہدے کا چارج سنبھال لیا
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے یہ بات اتوار کی صبح سلہٹ کے سرکٹ ہاؤس میں صحافیوں سے ملاقات اور عید مبارکباد کے تبادلے کے دوران کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ قومی انتخابات کے بعد سیاسی تبدیلیاں تو آئی ہیں، مگر معاشرے میں اب بھی بے ضابطگیاں، بدانتظامی اور انتقامی سیاست کے رجحانات دیکھے جا رہے ہیں۔

انہوں نے ملک میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مختلف علاقوں میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات باعثِ تشویش ہیں اور اس سے عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی قیادت کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ایک منصفانہ اور جوابدہ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
شفیق الرحمان نے کہا کہ سیاستدانوں کے وعدوں اور عمل میں تضاد کی وجہ سے عوام کا اعتماد کم ہو رہا ہے، جو ایک خطرناک رجحان ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کو عوامی توقعات کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہییں۔
یہ بھی پڑھیں:جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا عوامی لیگ رہنماؤں کی ضمانت اور دفاتر کھولنے پر تشویش کا اظہار
انہوں نے کہا کہ عوام نے ریفرنڈم اور انتخابات میں تبدیلی کے لیے ووٹ دیا، لیکن اصلاحات مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکیں، جس کے باعث دوبارہ بداعتمادی پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے عید کے موقع پر زائد کرایوں کے حوالے سے بھی تنقید کی اور حکومت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
جماعت اسلامی کے رہنما نے واضح کیا کہ ان کی جماعت پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مثبت کردار ادا کرے گی، تاہم عوام کے حقوق کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئینی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں اور امید ظاہر کی کہ حکومت اس سمت میں جلد پیشرفت کرے گی۔

انہوں نے صدر محمد شہاب الدین کے حوالے سے کہا کہ ان کی جماعت کو فرد پر تحفظات ہیں، ادارے پر نہیں، اس لیے حکومت کو اس معاملے کو حل کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے سلہٹ میں ترقیاتی منصوبوں کی کمی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں سمیت دیگر شعبوں میں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو متوازن ترقی کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈھاکا: چینی سفیر کی جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان سے ملاقات
انہوں نے بلدیاتی انتخابات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے استحکام کے لیے مقامی سطح پر انتخابات ضروری ہیں، کیونکہ اس سے عوامی نمائندگی اور جوابدہی مضبوط ہوتی ہے۔
آخر میں انہوں نے سلہٹ کے صحافیوں کے کردار کو سراہا اور کہا کہ ذمہ دار صحافت معاشرے کی درست رہنمائی کے لیے ناگزیر ہے۔ ملاقات کے بعد انہوں نے مرحوم مولانا مجیب الرحمان کی قبر پر حاضری بھی دی۔













