بنگلہ دیش میں فسطائیت کا سایہ ابھی باقی ہے، مکمل بحالی نہیں ہوئی، شفیق الرحمان

اتوار 22 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف اور جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں فسطائیت کا بڑا حصہ ختم ہو چکا ہے، تاہم اس کے اثرات اور سائے ابھی باقی ہیں اور ملک سیاسی و سماجی بحران سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: لیفٹیننٹ جنرل مشفیق الرحمان نے بطور پرنسپل اسٹاف آفیسر عہدے کا چارج سنبھال لیا

ڈاکٹر شفیق الرحمان نے یہ بات اتوار کی صبح سلہٹ کے سرکٹ ہاؤس میں صحافیوں سے ملاقات اور عید مبارکباد کے تبادلے کے دوران کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ قومی انتخابات کے بعد سیاسی تبدیلیاں تو آئی ہیں، مگر معاشرے میں اب بھی بے ضابطگیاں، بدانتظامی اور انتقامی سیاست کے رجحانات دیکھے جا رہے ہیں۔

انہوں نے ملک میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مختلف علاقوں میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات باعثِ تشویش ہیں اور اس سے عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی قیادت کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ایک منصفانہ اور جوابدہ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

شفیق الرحمان نے کہا کہ سیاستدانوں کے وعدوں اور عمل میں تضاد کی وجہ سے عوام کا اعتماد کم ہو رہا ہے، جو ایک خطرناک رجحان ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کو عوامی توقعات کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہییں۔

یہ بھی پڑھیں:جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا عوامی لیگ رہنماؤں کی ضمانت اور دفاتر کھولنے پر تشویش کا اظہار

انہوں نے کہا کہ عوام نے ریفرنڈم اور انتخابات میں تبدیلی کے لیے ووٹ دیا، لیکن اصلاحات مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکیں، جس کے باعث دوبارہ بداعتمادی پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے عید کے موقع پر زائد کرایوں کے حوالے سے بھی تنقید کی اور حکومت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

جماعت اسلامی کے رہنما نے واضح کیا کہ ان کی جماعت پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مثبت کردار ادا کرے گی، تاہم عوام کے حقوق کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئینی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں اور امید ظاہر کی کہ حکومت اس سمت میں جلد پیشرفت کرے گی۔

انہوں نے صدر محمد شہاب الدین کے حوالے سے کہا کہ ان کی جماعت کو فرد پر تحفظات ہیں، ادارے پر نہیں، اس لیے حکومت کو اس معاملے کو حل کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر شفیق الرحمان نے سلہٹ میں ترقیاتی منصوبوں کی کمی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں سمیت دیگر شعبوں میں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو متوازن ترقی کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈھاکا: چینی سفیر کی جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان سے ملاقات

انہوں نے بلدیاتی انتخابات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے استحکام کے لیے مقامی سطح پر انتخابات ضروری ہیں، کیونکہ اس سے عوامی نمائندگی اور جوابدہی مضبوط ہوتی ہے۔

آخر میں انہوں نے سلہٹ کے صحافیوں کے کردار کو سراہا اور کہا کہ ذمہ دار صحافت معاشرے کی درست رہنمائی کے لیے ناگزیر ہے۔ ملاقات کے بعد انہوں نے مرحوم مولانا مجیب الرحمان کی قبر پر حاضری بھی دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی ٹی آئی کا لیاقت باغ میں جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان

غیرملکی وفود کی آمدورفت، اسلام آباد پولیس کی عوام کے لیے اہم ہدایات جاری

امریکا اور ایران کے وفود جمعے کو پاکستان آرہے ہیں، اللہ کو منظور ہوا تو جنگ کے شعلے ہمیشہ کے لیے بجھ جائیں گے، وزیراعظم

امریکا ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، معاہدے کے کئی نکات طے پاچکے، ڈونلڈ ٹرمپ

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟