پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج 24 مارچ 2026 کو کاروباری ہفتے کے پہلے روز مثبت آغاز دیکھا گیا۔ مارکیٹ میں گزشتہ کچھ ہفتوں سے جاری مندی کے بعد آج سرمایہ کاروں نے خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
آج ٹریڈنگ کے آغاز پر ہی KSE-100 انڈیکس میں تیزی دیکھی گئی، جس کی وجہ سے 100 انڈیکس 4449 پوائنٹس اضافے سے 157190 پر کھلا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر انڈیکس قریباً 152,740 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
مزید پڑھیں: خطے میں جنگی صورتحال، پاکستان اسٹاک ایکسچینج بدترین مندی سے دوچار
اسٹاک مارکیٹ تجزیہ کار شہریار بٹ کے مطابق فروری 2026 کے دوران پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ میں 427 ملین ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا ہے۔ افراطِ زر کی شرح میں بتدریج کمی اور شرحِ سود میں مستقبل قریب میں کمی کی توقعات نے مارکیٹ کو سہارا دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے پاکستان کے لیے 10 ارب ڈالر کی نئی فنانسنگ حکمتِ عملی کے اعلان نے بھی مثبت اثر ڈالا ہے۔ مسلسل 8 ہفتوں کی گراوٹ کے بعد مارکیٹ تکنیکی طور پر نچلی سطح پر تھی، جہاں حصص کی قیمتیں پرکشش ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے دوبارہ خریداری شروع کی۔
معاشی ماہر سلمان نقوی کے مطابق اگرچہ مقامی معاشی اعشاریے بہتر ہو رہے ہیں، لیکن عالمی سطح پر، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔
انکا ماننا ہے کہ اگر خام تیل کی عالمی قیمتیں مستحکم رہتی ہیں، تو مقامی مارکیٹ میں تیزی برقرار رہ سکتی ہے۔ تاہم، سرمایہ کار تاحال محتاط ہیں کیونکہ رمضان کے بعد اور عید کی تعطیلات کے قریب عام طور پر مارکیٹ میں حجم کم ہو جاتا ہے۔
معاشی ماہر محمد عدنان پراچہ کا کہنا ہے کہ اگر حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ اگلے ریویو میں کامیاب رہتی ہے اور شرحِ سود میں کمی کا اعلان ہوتا ہے، تو انڈیکس دوبارہ اپنی تاریخی بلند ترین سطح (191,000+) کی طرف جا سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی کسی بھی وقت مارکیٹ پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔ اس وقت سرمایہ کار انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر عمل کررہی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید دباؤ، انڈیکس میں 1600 سے زائد پوائنٹس کی کمی
محمد عدنان پراچہ کے مطابق اس وقت نظر آنے والی تیزی کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جنگ کے بادل کمزور پڑ رہے ہیں اگر واقعی ایسا ہوا تو امید یہی ہے کہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ اپنے مقام پر واپس آسکتی ہے بلکہ اس سے بھی آگے مطلب نئے ریکارڈ بنا سکتی ہے کیوں کہ جنگی صورتحال میں پہلی بار ایسا لگ رہا ہے کہ مذاکرات کے ذریعہ حل نکل جائے گا۔














