کیا عارضی جنگ بندی مستقل ہو سکتی ہے؟

منگل 24 مارچ 2026
author image

عمار مسعود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مانیں نہ مانیں، یہ دنیا بدل گئی ہے۔ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے پہلے یہ دنیا مختلف تھی۔ یہاں کے قوانین، اصول، ضابطے، لہجے اور ڈھنگ مختلف تھے۔ اب نہ کوئی قاعدہ ہے نہ قانون، نہ کوئی ضابطہ ہے نہ اصول۔

ایران، اسرائیل جنگ سے پہلے اقوامِ متحدہ کا کچھ بھرم تھا، دوسرے ممالک کی سرحدوں کا کچھ احترام تھا، انسانی حقوق کے نام پر کچھ ڈھکوسلے ہوتے تھے، جمہوریت کسی چڑیا کا نام تھی، کسی سپر پاور کے جارح ارادوں کے خلاف دنیا مزاحم ہوتی تھی، مگر اب کچھ نہیں۔ اب دنیا میں ایک جانب امریکا کی بدمست طاقت ہے اور دوسری جانب ہاتھی کے پاؤں تلے پسنے والی اقوام ہیں۔

اس دنیا میں سب کچھ نیا ہے۔ اب دنیا کو پتہ چل رہا ہے کہ سب سے بڑی قوت معیشت نہیں، عسکری طاقت ہے۔ سب سے زیادہ محترم انسانی حقوق نہیں، جنگی قوت ہے۔ سب سے ضروری تیل نہیں، میزائل ہیں۔ یہ دنیا اب شکست اور فتح کے فیصلے کے درمیان اٹکی ہوئی ہے۔ اب دنیا کے فاصلے راکٹ لانچرز کی رفتار سے ماپے جا رہے ہیں۔ اب کوئی درمیانی راستہ بچا ہی نہیں۔ اب صلح کے پرچم کی گنجائش ہی نہیں۔ اب فیصلہ کن انصاف نہیں، اسلحہ ہے۔

پاکستانیوں کو شکر گزار ہونا چاہیے کہ ہم اس نئے ورلڈ آرڈر میں ایک ایٹمی طاقت ہیں۔ اس کے لیے بھٹو شہید، ضیاء الحق، نواز شریف جس جس کا شکریہ واجب ہے، ادا کرنا چاہیے۔ لیکن یہ استعداد اس زمانے میں واحد قابلیت ہے جو ہمیں باقی مسلم امہ میں ممتاز کرتی ہے۔ یہ واحد پاکستانی تمغہ ہے جو سب مسلمان ممالک کی چھاتی پر پھبتا ہے۔ پاکستان کے پاس یہ ایٹمی اعزاز ہمارا دفاع بھی ہے، حوصلہ بھی۔ یہی خارجہ پالیسی بھی ہے اور یہی داخلی محاذ پر فتح کا جواز بھی۔

سادہ لوح پاکستانی سمجھ رہے ہیں کہ یہ جنگ مستقل بند ہو گئی ہے۔ بہتر دن آنے والے ہیں۔ مشکل وقت گزر چکا ہے۔ روشنی نظر آنے والی ہے۔ انہیں شاید حالات کی سنگینی کا ادراک نہیں۔ دنیا اب مختلف ہو گئی ہے، بلکہ ایک آتش فشاں بن چکی ہے، جس کو شاید آج قرار آ جائے مگر کل کو یہ آگ کسی اور جنگ کے نام پر پھر بھڑک سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یاد رکھیں کہ پیٹرول کی قیمتیں پھر کبھی نیچے نہ آ سکیں گی۔ اب شاید ماضی کی طرح آزادانہ سڑکوں پر گاڑیاں دوڑانے کا دور ہمیشہ کے لیے بیت چکا ہو گا۔ اب دبئی میں چھٹیاں منانے کا عہد ختم ہو گیا ہو گا۔

پاکستانیوں کو ادراک ہونا چاہیے کہ پیٹرول کی قیمت ابھی بہت کم بڑھی ہے۔ ہائی اوکٹین ابھی بھی دستیاب ضرور ہے لیکن اگر یہ جنگ جاری رہی تو پیٹرول ایک ہزار روپے لیٹر بھی ہو سکتا ہے، ہائی اوکٹین سونے کے بھاؤ بھی مل سکتا ہے۔ ڈیزل کمیاب بھی ہو سکتا ہے۔ اشیائے خورو نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر سکتی ہیں۔

اگر جنگ جاری رہی تو کیا پتہ آنے والے دور میں دودھ، گوشت صرف رؤسا ہی خرید سکیں۔ ڈبل روٹی، انڈے عیاشی میں تصور ہونے لگیں۔ سبزیاں کھیتوں میں ہی برباد ہو جائیں مگر ٹرانسپورٹ کا خرچہ برداشت کرنے والا کوئی نہ ہو۔ اسکول، کالج آن لائن ہمیشہ کے لیے ہو جائیں۔ یونیورسٹیاں ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں، تقریبات ختم ہو جائیں۔ اجتماعات پر پابندی لگ جائے۔ گاڑی میں اکیلے سفر کرنا جرم تصور کیا جائے۔ بڑے بڑے افسر موٹر سائیکل پر سفر کریں۔ پیٹرول گاڑیاں مالکان کے لیے عذاب بن جائیں۔ الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں بے پناہ اضافہ ہو جائے۔ ہر چیز کے لیے انٹرنیٹ لازمی ہو جائے۔ کاروباری فیصلے راستہ ماپ کر کیے جائیں۔ پیٹرول پمپوں پر تالے لگ جائیں۔ لوگ پیدل سفر کرنا شروع کر دیں۔ یہ صورتِ حال صرف پاکستان کی نہیں، پوری دنیا کی ہو جائے۔ ساری دنیا ہی بدل جائے اور ملکوں کی پہچان ان کی دفاعی عسکری صلاحیت سے کی جائے۔ یہی پیمانہ حتمی اور اٹل کہلائے۔

اس نئی دنیا میں پاکستان کے لیے کیا راہیں متعین ہو سکتی ہیں؟ کیا راستے نکل سکتے ہیں؟ کون سے امکانات پوشیدہ ہو سکتے ہیں؟ اس حوالے سے ابھی سے غور و فکر کی ضرورت ہے۔ دنیا کے اس عظیم بحران میں پاکستان کے لیے تین مواقع پوشیدہ ہیں۔ ان سے فائدہ اٹھائیں تو دنیا کا بھی فائدہ ہے، ہمارا بھی۔ دنیا کی بھی بچت ہے اور ہماری بھی۔ دنیا کی بھی فلاح اور ہماری بھی۔

ایران کے خلیجی ممالک پر تابڑ توڑ حملوں سے یہ قلعی کھل گئی ہے کہ امریکا کسی ملک کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ وہ خلیجی ممالک جنہوں نے اپنے دفاع کی ساری ذمہ داری بھاری ہرجانے پر امریکا کے حوالے کی تھی، اس وقت ایک دوسرے کا منہ تک رہے ہیں۔ سعودی عرب نے بہت دور اندیشی سے کام لیا۔ پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ نہ صرف ہماری مضبوط دوستی کی دلیل ہے بلکہ مسلم امہ کی اس دانش گاہ کی دور اندیشی کا بھی ثبوت ہے۔ آنے والے دور میں دوسرے خلیجی ممالک کو بھی سعودی عرب کی تقلید کرنا ہو گی۔

پاکستان کی دفاعی صلاحیت مضبوط تر بھی ہے اور مسلم امہ کا رشتہ بھی خلیجی ممالک سے قائم ہے۔ یہ وہ موقع ہے جس سے خلیجی ممالک کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اسی میں ان کی عافیت ہے، اس میں ان کی فلاح، ان کا دفاع پوشیدہ ہے۔ جتنی جلد وہ پاکستان سے دفاعی معاہدے کر لیں گے، اتنی جلد ان کی زندگی، عوام، معیشت، مملکت محفوظ ہو گی۔ یہ موقع پاکستان کے لیے بھی اور باقی ماندہ خلیجی ممالک کے لیے بھی ہے، لیکن یہ واحد موقع نہیں جو پاکستان کو میسر ہے۔

دفاع کے علاوہ بھی ایک موقع پاکستان کو اس بحران میں دستیاب ہے۔ دبئی دنیا بھر کی انویسٹمنٹ کا مرکز اس وجہ سے رہا کہ وہاں سرمایہ کاری بھی محفوظ تھی اور لوگ بھی۔ مگر اب حفاظت کے اس مصنوعی حصار کا پردہ چاک ہو گیا ہے۔

معاشی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ موجودہ حالات کے سبب دبئی کی معیشت کو سنبھلنے میں اب کم از کم 10 سے 15 سال لگیں گے۔ ایسے میں دنیا کے سرمایہ کاروں کو اپنی کالی، پیلی اور سفید بچت کی سرمایہ کاری کے لیے کسی سرزمین کی تلاش ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی سرمایہ کاری کا مرکز سرزمین پاکستان بن سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم فوری طور پر اپنے قوانین میں تبدیلی کریں، بین الاقوامی سرمایہ کاری کو ہر ممکن سہولت دیں۔ اپنے قوانین کو اتنا سہل کر دیں کہ پاکستان دبئی کی جگہ لے سکے۔ ہماری دفاعی صلاحیت پر کسی کو شک نہیں، ہماری معاشی اقدار پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے، حالات موافق کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک دفعہ ایسا ہو جائے تو دنیا کی اہم معیشت اس بحران میں پاکستان ہو سکتا ہے۔ ہمارا ڈنکا بھی دنیا میں بج سکتا ہے۔ نئے ورلڈ آرڈر میں معاشی اعتبار سے بھی پاکستان مسلم امہ کی قیادت کر سکتا ہے۔

تیسرا ایک اور نادر موقع ہے۔ ساری دنیا اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تعریف کر رہی ہے۔ امریکا بھی ہمارے قصیدے پڑھ رہا ہے، ایران بھی ہماری تعریف کر رہا ہے، خلیجی ریاستیں بھی ہمارے بارے میں رطب اللسان ہیں۔ فیلڈ مارشل، شہباز شریف اور اسحاق ڈار کی شبانہ روز کوششوں سے امن کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ امن کے حوالے سے مذاکرات بھی پاکستان میں ہوں گے، جس میں امریکی نائب صدر کے شریک ہونے کی بھی توقع ہے۔ ایسا ہوا تو دنیا میں جنگ کے حوالے سے ہی نہیں، امن کے حوالے سے بھی پاکستان کا نام ہو گا۔ ایسی سنگین جنگ، جو کسی بھی لمحے تیسری عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے، اس سے دنیا کو نجات دلانا اس صدی کا سب سے بڑا کارنامہ ہو گا۔ اگر پاکستان کی بین الاقوامی امن کی یہ کوشش کامیاب ہوتی ہے، اور عارضی جنگ بندی پاکستان کی کوششوں سے مستقل ہو جاتی ہے، تو یقین مانیے امن کے نوبل انعام پر سب سے پہلا حق پاکستان کا ہو گا۔ پاکستان جنگ کے علاوہ امن کے میدان میں بھی سرخرو ہو گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

موٹر سائیکل اور رکشوں کے لیے موبائل ایپ پر مبنی فیول کوٹہ سسٹم منظور

اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ملکی سلامتی اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے، ایم کیو ایم

جیل میں موت کو قریب سے دیکھا، اداکار راجپال یادیو جذباتی ہوگئے

پاکستان میں پولیو کے خلاف جاری مہم کے مثبت نتائج، رواں سال صرف ایک کیس رپورٹ ہوا

مشرق وسطیٰ کشیدگی: بھارت کو سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا، ملک اقتصادی بحران کی طرف بڑھنے لگا

ویڈیو

اورکزئی کی رابعہ بصری جو حصول علم کے لیے میلوں پیدل سفر کرتی ہیں

گلگت بلتستان کے شہریوں کا پاکستان کے لیے تن، من، دھن قربان کرنے کا عزم

’اسکوٹی نے زندگی بدل دی،‘ ڈیرہ اسماعیل خان کی اثواء رجاح

کالم / تجزیہ

کرکٹ ورلڈ کپ 92‘ فتح کا 34واں سال

جالب نامہ

کیا تحریک انصاف پاکستان کی فالٹ لائن بن چکی ہے؟