شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک کبھی بھی اپنے جوہری ہتھیار ترک نہیں کرے گا اور وہ اپنی ناقابل واپسی ایٹمی حیثیت کو مزید مضبوط بناتا رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا انتخابات: کم جونگ اُن 99.93 فیصد ووٹ لے کر کامیاب
سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے جنوبی کوریا کو سب سے بڑی دشمن ریاست قرار دینے کا بھی عندیہ دیا ہے۔
کم جونگ اُن نے پیر کے روز سپریم پیپلز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا اپنی جوہری صلاحیت کو مزید وسعت دے گا اور دشمن قوتوں کے خلاف اپنی جدوجہد تیز کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کا آئین بھی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ دفاعی جوہری قوت کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
انہوں نے امریکا پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ دنیا بھر میں ریاستی دہشتگردی کا مرتکب ہو رہا ہے۔
کم جونگ اُن نے جنوبی کوریا کے بارے میں سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا اسے باضابطہ طور پر سب سے دشمن ریاست قرار دے گا اور اس کے ساتھ کسی قسم کی مفاہمت نہیں کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر شمالی کوریا کے خلاف کوئی اقدام کیا گیا تو اس کا بے رحمانہ جواب دیا جائے گا۔
مزید پڑھیے: شمالی کوریا نے 10 سے زیادہ بیلسٹک میزائل سمندر میں داغ دیے
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کی جانب سے بغیر کسی شرط کے مذاکرات کی پیشکش کی گئی تھی تاہم شمالی کوریا نے ان کوششوں کو نظر انداز کر دیا۔
ماہرین کے مطابق شمالی کوریا کے پاس پہلے ہی درجنوں جوہری وار ہیڈز موجود ہیں اور وہ مزید بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ اس نے جدید بیلسٹک میزائل سسٹمز بھی تیار کیے ہیں جو کم وقت میں لانچ کیے جا سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی حالات شمالی کوریا کو اپنی جوہری پالیسی مزید مضبوط کرنے کی طرف لے جا رہی ہے کیونکہ اس کے نزدیک موجودہ دور میں سلامتی کی سب سے بڑی ضمانت جوہری ہتھیار ہی ہیں۔
کم جونگ اُن نے اپنی تقریر میں دفاعی اخراجات بڑھانے کا بھی عندیہ دیا اور کہا کہ سنہ 2026 کے بجٹ کا تقریباً 15.8 فیصد دفاع پر خرچ کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: روسی صدر پیوٹن کی جانب سے شمالی کوریا کے رہنما کی بہن کو نئے سال کا تحفہ
علاوہ ازیں انہوں نے ایک باقاعدہ پولیس نظام قائم کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا تاکہ داخلی سلامتی اور سماجی استحکام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔














