فلم ’دھرندھر 2‘ بنانے والوں کے خلاف مقدمہ درج، سکھ برادری کا مقدس گُربانی کی بے ادبی کا الزام

منگل 24 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بالی ووڈ کی معروف فلم ’دھرندھر 2‘ سکھ برادری کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام کے باعث تنازعہ کا شکار ہوگئی ہے۔ سکھ برادری کے ایک گروپ نے فلم کو مقدس گُربانی کے خلاف بے ادبی قرار دیا ہے اور فلم کے ہدایتکار اور مرکزی اداکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔

فلم کے ایک سین میں آر۔ مدهون کے کردار کو سگریٹ پیتے ہوئے رنویر سنگھ کے ساتھ بات کرتے ہوئے دکھایا گیا اور اس دوران وہ دسم گرنتھ کی ایک مقدس آیت پڑھ رہا ہے جسے گرو گوبند سنگھ نے تحریر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: تنقید کے باوجود بھارتی فلم ’دھرندر‘ کی کامیابی، ایجنڈا کیا ہے؟

شکایت کنندہ گرجیوت سنگھ کیر جو شیو سینا (شندے دھڑا) کے رہنما اور ’سکھس اِن مہاراشٹر‘ کے صدر ہیں انہوں نے فلم کے ہدایتکار، اداکار اور دیگر افراد کو شامل کیا ہے۔

انسٹاگرام پر جاری بیان میں گرجیوت سنگھ کیر نے کہا کہ میں دھرندھر 2 کے بنانے والوں کی جانب سے گُربانی کی کھلی بے ادبی کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ ایک کردار سگریٹ پیتے ہوئے اور مقدس آیت پڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو سکھ برادری کے لیے ناقابل قبول اور تکلیف دہ ہے۔ گُربانی صرف مکالمہ نہیں بلکہ الٰہی اور روحانی اہمیت رکھتی ہے۔ ہم پوری سکھ برادری سے پرامن احتجاج اور معافی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

گرجیوت نے مزید کہا کہ یہ آیت گرو گوبند سنگھ نے اس وقت تحریر کی تھی جب اورنگزیب کے دور میں سکھوں اور ہندوؤں پر ظلم ہو رہا تھا اس لیے مقدس متون کا احترام لازمی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp