بالی ووڈ کی معروف فلم ’دھرندھر 2‘ سکھ برادری کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام کے باعث تنازعہ کا شکار ہوگئی ہے۔ سکھ برادری کے ایک گروپ نے فلم کو مقدس گُربانی کے خلاف بے ادبی قرار دیا ہے اور فلم کے ہدایتکار اور مرکزی اداکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔
فلم کے ایک سین میں آر۔ مدهون کے کردار کو سگریٹ پیتے ہوئے رنویر سنگھ کے ساتھ بات کرتے ہوئے دکھایا گیا اور اس دوران وہ دسم گرنتھ کی ایک مقدس آیت پڑھ رہا ہے جسے گرو گوبند سنگھ نے تحریر کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: تنقید کے باوجود بھارتی فلم ’دھرندر‘ کی کامیابی، ایجنڈا کیا ہے؟
شکایت کنندہ گرجیوت سنگھ کیر جو شیو سینا (شندے دھڑا) کے رہنما اور ’سکھس اِن مہاراشٹر‘ کے صدر ہیں انہوں نے فلم کے ہدایتکار، اداکار اور دیگر افراد کو شامل کیا ہے۔
انسٹاگرام پر جاری بیان میں گرجیوت سنگھ کیر نے کہا کہ میں دھرندھر 2 کے بنانے والوں کی جانب سے گُربانی کی کھلی بے ادبی کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ ایک کردار سگریٹ پیتے ہوئے اور مقدس آیت پڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو سکھ برادری کے لیے ناقابل قبول اور تکلیف دہ ہے۔ گُربانی صرف مکالمہ نہیں بلکہ الٰہی اور روحانی اہمیت رکھتی ہے۔ ہم پوری سکھ برادری سے پرامن احتجاج اور معافی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
View this post on Instagram
گرجیوت نے مزید کہا کہ یہ آیت گرو گوبند سنگھ نے اس وقت تحریر کی تھی جب اورنگزیب کے دور میں سکھوں اور ہندوؤں پر ظلم ہو رہا تھا اس لیے مقدس متون کا احترام لازمی ہے۔












