افغانستان میں پھیلتے دہشتگردی کے مرکز کے خلاف پاکستان مضبوط دیوار

منگل 24 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان آج محض ایک غیر مستحکم ملک نہیں بلکہ ایک پیچیدہ اور خطرناک صورتِ حال کا شکار ہے، جہاں دہشتگرد نیٹ ورکس، انتہا پسند نظریات، غیر ملکی جنگجو اور مجرمانہ معیشت ایک ہی غیر یقینی ماحول میں جمع ہو چکے ہیں۔ اس صورت حال میں پاکستان ایک مضبوط دیوار کے طور پر کام کر رہا ہے جو اس دباؤ کو قابو میں رکھتے ہوئے اس کے اثرات کو باہر پھیلنے سے روک رہا ہے، تاہم اس نظام کے اندر دباؤ بڑھ رہا ہے اور اس کے اثرات سرحدوں سے باہر بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خطرہ عام افغان عوام سے نہیں، جو دہائیوں سے جنگ اور تباہی کا سامنا کر رہے ہیں، بلکہ اس سیاسی نظام سے ہے جو مسلح، نظریاتی جبر، معاشی کمزوری اور بین الاقوامی دہشتگردی کا امتزاج ہے۔

مزید پڑھیں: افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں، کالعدم ٹی ٹی پی کن علاقوں میں موجود ہے؟

2021 کے بعد افغانستان دہشتگردی کے لیے ایک سازگار مرکز بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس کے مطابق یہاں 20 سے زیادہ بین الاقوامی دہشتگرد تنظیمیں موجود ہیں جن کے ساتھ 13 ہزار تک غیر ملکی جنگجو شامل ہیں، جبکہ مجموعی اندازوں کے مطابق دہشتگردوں کی تعداد 20 سے 23 ہزار کے درمیان ہے جن میں نصف سے زیادہ غیر ملکی ہیں۔ القاعدہ، ٹی ٹی پی، داعش خراسان اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) جیسے گروہ محفوظ پناہ گاہوں، نقل و حرکت اور باہمی روابط کے ساتھ سرگرم ہیں۔

گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 کے مطابق 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان علاقائی دہشتگردی کے پھیلاؤ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں میسر آئیں جس سے پاکستان میں سرحد پار حملوں میں اضافہ ہوا۔

2025 میں پاکستان میں ہونے والے 74 فیصد حملے اور 67 فیصد اموات افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں ہوئیں۔ افغان سرزمین سے سرگرم ٹی ٹی پی سب سے مہلک گروہ رہا، جو دہشتگردی سے متعلق 56 فیصد اموات کا ذمہ دار تھا۔ اس نے 595 حملے کیے جن میں 637 افراد جاں بحق ہوئے، جو اس کی بڑھتی صلاحیت، ڈرون کے استعمال اور سیکیورٹی فورسز و شہریوں کو مسلسل نشانہ بنانے کی عکاسی کرتا ہے۔

طالبان حکومت نے دہشتگردوں کو آپریشنل گنجائش، وسائل اور اسٹریٹجک گہرائی فراہم کی، جبکہ محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی سے انکار اور ناکام سفارت کاری نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنایا۔

یہ نظام ہیبت اللہ اخوندزادہ کی قیادت میں جارحانہ نظریاتی توسیع سے مزید مضبوط ہوا ہے، جہاں حکمرانی، قانون اور تعلیم کو انتہا پسندی کے فروغ کے لیے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔

اگست 2021 کے بعد مدارس کی تعداد 13 ہزار سے بڑھ کر 23 ہزار سے تجاوز کر گئی

اگست 2021 کے بعد مدارس کی تعداد 13 ہزار سے بڑھ کر 23 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ طلبہ کی تعداد ڈیڑھ ملین سے بڑھ کر قریباً 30 لاکھ ہو گئی ہے، جو نوجوانوں کی بڑی تعداد کو نظریاتی تعلیم کی طرف راغب کرنے کی نشاندہی کرتی ہے۔ مدارس اب محض معاون ادارے نہیں بلکہ حکمرانی کا مرکزی ستون بن چکے ہیں۔

طالبان کا فوجداری ضابطہ 2026 اس نظام کو مزید مضبوط بناتا ہے، جس کے ذریعے سخت درجہ بندی، اختلافِ رائے کو جرم قرار دینا اور اطاعت کو قانونی فریم ورک میں شامل کیا گیا ہے۔ مدارس کے پھیلاؤ اور قانونی نفاذ نے مل کر ایک ایسا مربوط نظام تشکیل دیا ہے جہاں نظریاتی ہم آہنگی پیدا، نافذ اور برقرار رکھی جاتی ہے۔

ہیبت اللہ کا یہ نظریاتی فریم ورک صرف داخلی نہیں بلکہ بین الاقوامی اثرات کا حامل ہے، جو انتہا پسند نظریات کو سرحدوں سے باہر منتقل کرنے کے بیانیے کو تقویت دیتا ہے۔

اس کا نتیجہ ایک منظم نظام کی صورت میں سامنے آیا ہے جہاں نظریاتی پیداوار کو آپریشنل نیٹ ورکس سے جوڑا گیا ہے۔ مدارس میں دی جانے والی تعلیم دہشتگرد تنظیموں کے لیے بھرتی کا ذریعہ بن رہی ہے، جس سے ٹی ٹی پی، القاعدہ اور داعش خراسان جیسے گروہوں کی مسلسل تجدید اور بقا ممکن ہو رہی ہے۔

فروری 2026 کی اقوام متحدہ کی 37ویں رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت نے دہشتگرد نیٹ ورکس کا خاتمہ نہیں کیا بلکہ انہیں مزید فعال ہونے کا موقع فراہم کیا۔ صرف ٹی ٹی پی کے 5 سے 7 ہزار جنگجو موجود ہیں جو سرحد پار حملے کرتے ہیں۔

ای ٹی آئی ایم کے قریباً 250 جنگجو طالبان کے نظام میں شامل ہو چکے

ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) کے قریباً 250 جنگجو طالبان کے نظام میں شامل ہو چکے ہیں، جبکہ القاعدہ تربیت اور معاونت فراہم کرتی ہے اور داعش خراسان شمالی افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

یہ صورتحال ماضی کی مثالوں سے بھی مماثلت رکھتی ہے۔ 1996 میں اسامہ بن لادن سوڈان سے افغانستان منتقل ہوا جہاں طالبان کی پناہ میں القاعدہ نے طاقت حاصل کی، جس کے نتیجے میں 1998 کے سفارتخانے حملے اور بعد ازاں 11 ستمبر جیسے واقعات رونما ہوئے۔ موجودہ حالات بھی اسی طرز کی عکاسی کرتے ہیں جہاں محفوظ پناہ گاہیں، نظریاتی تربیت اور بیرونی جنگجو موجود ہیں۔

اس کے اثرات پہلے ہی ظاہر ہو رہے ہیں۔ 2025 میں پاکستان کو ٹی ٹی پی کے 600 سے زیادہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں 1957 افراد جاں بحق اور 3603 زخمی ہوئے، جو افغان سرزمین سے جڑے نیٹ ورکس کا نتیجہ ہیں۔

علاقائی سطح پر بھی اس کے اثرات نمایاں ہو چکے ہیں۔ نومبر 2025 میں افغانستان سے تاجکستان میں چینی مفادات کو نشانہ بنایا گیا جہاں ڈرون حملوں میں 4 دن کے اندر 2 واقعات میں 5 چینی شہری ہلاک ہوئے۔

جنوری 2026 میں تاجکستان میں سرحد پار دراندازی کے دوران جھڑپیں

جنوری 2026 میں تاجکستان میں سرحد پار دراندازی کے دوران جھڑپیں ہوئیں اور بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا، جو افغانستان سے منظم نقل و حرکت کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان دیگر ممالک میں حملوں کے لیے ایک مرکز کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں: افغانستان دہشتگردی کا سرپرست، ایسے عناصر کا زمین کے آخری کونے تک پیچھا کریں گے، خواجہ آصف

طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان ایک محدود بحران نہیں بلکہ ایک ایسا دباؤ کا مرکز ہے جہاں دہشتگردی، نظریات اور غیر قانونی معیشت ایک دوسرے کو مضبوط بنا رہے ہیں۔

پاکستان کا کردار ایک مضبوط دیوار کے طور پر نہایت اہم ہے جو اس دباؤ کو قابو میں رکھے ہوئے ہے، تاہم مدارس کے پھیلاؤ، طلبہ کی بڑھتی تعداد اور نظریاتی شدت کے باعث اس نظام میں دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے جس کے اثرات خطے سے باہر تک پھیل سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کے پی ٹی اور رومانیہ کی بندرگاہ قسطنطہ کے درمیان تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دستخط

ہتک عزت مقدمہ: علی ظفر کی سیشن عدالت میں کامیابی، میشا شفیع کا لاہور ہائیکورٹ جانے کا فیصلہ

ایران معاہدے پر راضی نہ ہوا تو جنگ مزید شدت سے جاری رکھی جائے گی، امریکی وزیر دفاع کی دھمکی

کوئٹہ: بجلی چوری اور مالی بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائیاں، اعداد و شمار جاری

عمران خان کے بیٹوں نے پاکستان کے خلاف بات کی تو سپورٹ نہیں کریں گے، بیرسٹر گوہر

ویڈیو

گلگت بلتستان کے گاؤں سے وطن سے محبت اور آزادی کی قدر کا پیغام

پاکستان میں مہنگے فیول نے کیب ڈرائیورز اور مسافروں کو بھی مشکل میں ڈال دیا

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار بیجنگ پہنچ گئے، ایران پر بات کریں گے: چین

کالم / تجزیہ

پاکستان کا فیصلہ کیا ہوگا؟

ہم بہت خوش نصیب ہیں، ہم بہت بدنصیب ہیں

ایک حادثہ جس نے میڈیا کی بلوغت کا ثبوت دیا