ڈھاکا، خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے جولائی تحریک کے شرکا کو قانونی تحفظ دینے کی حمایت کردی

منگل 24 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کی خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ جولائی ماس اپریزنگ (تحفظ اور ذمہ داری کے تعین) آرڈیننس کو اس کی موجودہ شکل میں پارلیمنٹ میں غور کے لیے پیش کرنے کی سفارش کرے گی، تاکہ جولائی تحریک میں حصہ لینے والے طلبا اور شہریوں کو قانونی تحفظ فراہم کیا جاسکے۔

یہ فیصلہ خصوصی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں کیا گیا جو منگل کو قومی اسمبلی کے کابینہ روم میں منعقد ہوا۔ کمیٹی کو عبوری حکومت کے تحت جاری کیے گئے 133 آرڈیننسز کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: جولائی تحریک کی بازگشت: بنگلہ دیش میں نوجوانوں کے جوش کے ساتھ ووٹنگ جاری

کمیٹی کے اراکین نے گنابھابن میں جولائی ماس اپریزنگ میموریل میوزیم کے قیام سے متعلق آرڈیننس کی منظوری کی بھی سفارش کرنے پر اتفاق کیا۔

اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین زین العابدین نے کی اور اس میں وزیر داخلہ صلاح الدین احمد، چیف وہپ نورال اسلام مونی، وزیر قانون اسد الزمان، ڈاکٹر محمد عثمان فاروق، اے ایم محبوب الدین، وزیر مملکت برائے عوامی انتظامیہ عبدالباری، محمد نوشاد ضمیر، وزیر مملکت برائے سماجی بہبود فرزانہ شرمین، اور اپوزیشن اراکین، جن میں جماعت اسلامی کے ایم پیز مجیب الرحمٰن، رفیق الاسلام خان اور جی ایم نذر الاسلام شامل تھے۔

اجلاس کے بعد وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے کہا کہ کمیٹی نے جولائی تحریک میں حصہ لینے والوں کو انڈیمنٹی دینے پر مکمل اتفاق کیا ہے اور ان کے لیے قانونی تحفظ فراہم کرنا اخلاقی اور ریاستی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ عبوری حکومت کے دوران جاری کیا گیا آرڈیننس موجودہ شکل میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر بعد میں ترامیم پر غور کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: جولائی تحریک کے 31 متاثرین کا پاکستان میں علاج کا فیصلہ

پارلیمنٹ سیکرٹریٹ کے بیان کے مطابق، کمیٹی نے پہلے دن 133 آرڈیننسز میں سے 40 کا جائزہ لیا اور باقی آرڈیننسز آنے والے اجلاسوں میں زیر غور آئیں گے۔ اگلا اجلاس بدھ دوپہر کو منعقد ہوگا۔

انڈیمنٹی آرڈیننس جو 25 جنوری کو جاری کیا گیا، جولائی تحریک کے شرکا کے خلاف درج شہری اور فوجداری مقدمات کی واپسی کی اجازت دیتا ہے اور مقررہ دفعات کے تحت نئے مقدمات درج کرنے سے روکتا ہے۔

کمیٹی نے ایک اور آرڈیننس پر بھی بات کی جس کے تحت سرکاری اور خود مختار اداروں میں براہِ راست بھرتی کی زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 30 سال سے بڑھا کر 32 سال کرنے کی تجویز ہے۔

 اپوزیشن اراکین نے حد 35 سال کرنے کی تجویز دی، لیکن اراکین نے 32 سال پر اتفاق ظاہر کیا اور معاملہ پارلیمنٹ میں نئے بل کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے جولائی عوامی تحریک کے شرکا کو قانونی تحفظ دینے کی منظوری دیدی

وزیر قانون اسد الزمان نے کہا کہ حکومت آئینی دفعات اور عوامی توقعات کے توازن کے ساتھ آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اپوزیشن رکن رفیق الاسلام خان نے کہا کہ اگر جولائی تحریک کے جذبے کو نافذ کرنے کے لیے آئینی ترامیم کی ضرورت ہو تو اسے زیر غور لایا جانا چاہیے۔

کمیٹی کے چیئرمین زین العابدین نے صحافیوں کو بتایا کہ اب تک نصف سے کم آرڈیننسز کا جائزہ لیا گیا ہے اور آئندہ اجلاسوں میں بات چیت جاری رہے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا ایران جنگ بندی: وزیراعظم کا سفارتی کوششوں میں تعاون فراہم کرنے والے ممالک سے اظہار تشکر

آپریشن ایپک فیوری کامیاب، ایران کو بڑی شکست دی، امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ

ایوانِ صدر میں سفارتی تقریب، 6 ممالک کے سفیروں نے صدر زرداری کو اپنی اسناد پیش کیں

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

پاکستان نے خطے میں قیام امن کے لیے اہم اور مثبت کردار ادا کیا، رجب طیب ادروان

ویڈیو

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

مری میں شدید بارش، لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کا خطرہ، ہائی الرٹ جاری

اورنج لائن ٹرین میں مفت سفر کرنے کا آسان طریقہ

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟