امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو 15 نکاتی جنگ بندی منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں ایران کے بیلسٹک میزائل اور نیوکلیئر پروگرامز پر پابندیوں سمیت متعدد اہم شرائط شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان، ترکیہ اور مصر کی امریکا ایران جنگ بندی کے لیے کوششیں: رائٹرز
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کے تحت، خلیج فارس کی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمُز کھلی رکھی جائے اور ایران کو اپنے افزودہ یورینیم کا ذخیرہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کو منتقل کرنا ہوگا۔ ایران کو نطنز، اصفہان اور فروڈو کے بڑے نیوکلیئر مراکز تک مکمل رسائی دینا ہوگی اور علاقائی پراکسی سرگرمیوں اور حلیف عسکری گروپوں کی حمایت ختم کرنا ہوگی۔
ٹرمپ کی جانب سے ایران کو 15 نکاتی منصوبے کے بدلے امریکا نے تجویز دی ہے کہ ایران پر عائد پابندیاں مکمل طور پر ختم کی جائیں، اس کے شہری نیوکلیئر پروگرام کی حمایت کی جائے اور ’سنیپ بیک‘ پابندی کے میکانزم کو ختم کیا جائے۔
یہ منصوبہ پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچایا گیا، جس نے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے۔ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اس معاملے میں کلیدی رابطہ قرار دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران جنگ: صرف 6 دن میں امریکی اخراجات 11.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئے
دوسری جانب ایران نے اس منصوبے پر ردعمل دیا ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ٹرمپ خود سے مذاکرات کر رہے ہیں، اور میجر جنرل علی عبد اللہ علی آبادی نے خبردار کیا کہ جنگ مکمل فتح تک جاری رہے گی۔
ایران کی 5 کلیدی شرائط میں جنگ کا فوری خاتمہ، امریکا کی مستقبل کی عسکری مداخلت نہ ہونے کی ضمانت، مالی معاوضہ، آبنائے ہرمُز پر کنٹرول اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر کوئی مذاکرات یا پابندیاں نہ ہونا شامل ہیں۔














