سپریم کورٹ میں نیب قوانین میں ترامیم کے بعد مقدمات کے دائرہ اختیار سے متعلق اہم قانونی معاملے کی سماعت کے دوران عدالت نے اس سوال کا جائزہ لیا کہ ضمانت کی درخواستیں اور سزا کے خلاف اپیلیں سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں یا آئینی عدالت کے۔
جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے اس اہم قانونی نکتے پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب قوانین میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کو ایسے مقدمات سننے کا دائرہ اختیار حاصل نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ روایتی نظام سے مربوط ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی جانب گامزن
ان کے مطابق نیب قانون میں ترامیم کے بعد ضمانت اور سزا کے خلاف اپیلیں آئینی عدالت میں سنی جائیں گی، جبکہ یہ ممکن نہیں کہ ایک ہی مقدمے کا ایک حصہ سپریم کورٹ اور دوسرا آئینی عدالت میں زیر سماعت ہو۔
نیب نے بھی وفاقی حکومت کے اس مؤقف کی حمایت کی۔
درخواست گزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ ضمانت کی درخواستیں آئینی عدالت سنے گی۔
مزید پڑھیں: نسلہ ٹاور کیس میں بڑا موڑ، وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور گرانے کے سپریم کورٹ کے احکامات منسوخ کردیے
ان کے مطابق قانون صرف سزا کے خلاف اپیلوں کو آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں لاتا ہے، جبکہ ضمانت کے مقدمات بدستور سپریم کورٹ سن سکتی ہے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ نیب ترامیم کے بعد بھی سپریم کورٹ ایک مقدمے میں ضمانت منظور کر چکی ہے اور اس وقت نیب نے دائرہ اختیار پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا تھا۔
اس موقع پر عدالتی استفسار پر نیب پروسیکیوٹر نے بتایا کہ 18 مارچ کو ہونے والی سماعت میں ایسا کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان سپریم کورٹ نے اثاثے چھپانے پر پیپلز پارٹی کے نو منتخب رکن اسمبلی کو نااہل قرار دے دیا
جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیے کہ دائرہ اختیار تو سب سے پہلی رکاوٹ ہوتا ہے، لیکن نیب نے خود ہی یہ اعتراض نہیں اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ دائرہ اختیار پر اعتراض نہ کرنا نیب کی نااہلی ہے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے بھی سوال کیا کہ نیب کے مؤقف میں اچانک تبدیلی کیوں آ گئی؟
عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو جواب الجواب کی تیاری کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 16 جولائی تک ملتوی کر دی۔














