نیب مقدمات سپریم کورٹ سنے یا آئینی عدالت؟ اہم قانونی نکتے پر سماعت کا آغاز

منگل 14 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ میں نیب قوانین میں ترامیم کے بعد مقدمات کے دائرہ اختیار سے متعلق اہم قانونی معاملے کی سماعت کے دوران عدالت نے اس سوال کا جائزہ لیا کہ ضمانت کی درخواستیں اور سزا کے خلاف اپیلیں سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں یا آئینی عدالت کے۔

جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے اس اہم قانونی نکتے پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب قوانین میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کو ایسے مقدمات سننے کا دائرہ اختیار حاصل نہیں رہا۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ روایتی نظام سے مربوط ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی جانب گامزن

ان کے مطابق نیب قانون میں ترامیم کے بعد ضمانت اور سزا کے خلاف اپیلیں آئینی عدالت میں سنی جائیں گی، جبکہ یہ ممکن نہیں کہ ایک ہی مقدمے کا ایک حصہ سپریم کورٹ اور دوسرا آئینی عدالت میں زیر سماعت ہو۔

نیب نے بھی وفاقی حکومت کے اس مؤقف کی حمایت کی۔

درخواست گزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ ضمانت کی درخواستیں آئینی عدالت سنے گی۔

مزید پڑھیں: نسلہ ٹاور کیس میں بڑا موڑ، وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور گرانے کے سپریم کورٹ کے احکامات منسوخ کردیے

ان کے مطابق قانون صرف سزا کے خلاف اپیلوں کو آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں لاتا ہے، جبکہ ضمانت کے مقدمات بدستور سپریم کورٹ سن سکتی ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ نیب ترامیم کے بعد بھی سپریم کورٹ ایک مقدمے میں ضمانت منظور کر چکی ہے اور اس وقت نیب نے دائرہ اختیار پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا تھا۔

اس موقع پر عدالتی استفسار پر نیب پروسیکیوٹر نے بتایا کہ 18 مارچ کو ہونے والی سماعت میں ایسا کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: گلگت بلتستان سپریم کورٹ نے اثاثے چھپانے پر پیپلز پارٹی کے نو منتخب رکن اسمبلی کو نااہل قرار دے دیا

جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیے کہ دائرہ اختیار تو سب سے پہلی رکاوٹ ہوتا ہے، لیکن نیب نے خود ہی یہ اعتراض نہیں اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ دائرہ اختیار پر اعتراض نہ کرنا نیب کی نااہلی ہے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے بھی سوال کیا کہ نیب کے مؤقف میں اچانک تبدیلی کیوں آ گئی؟

عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو جواب الجواب کی تیاری کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 16 جولائی تک ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا دورہ، دفاعی پیداوار اور خود انحصاری پر بریفنگ

بھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستانی سفیر کا بھارتی سفیر کو کرارا جواب

افغانستان میں بھوک، خشک سالی اور بے گھری سے ذہنی صحت کو سنگین خطرات، اقوام متحدہ

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں