تیل کےعالمی بحران کے پیش نظر حکومت نے موٹر سائیکلوں اور رکشوں کے لیے موبائل ایپ پر مبنی فیول کوٹہ سسٹم کو حتمی شکل دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: موجودہ تیل بحران اور 1973 کے عالمی تیل بحران میں کیا فرق ہے؟
ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کا مقصد کم آمدنی والے طبقے کو سبسڈی فراہم کرنا اور قیمتوں کے ذریعے تیل کے استعمال میں کمی لانا ہے۔
اس کوٹہ سسٹم کی تفصیلات آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور وزارت خزانہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی نے مشترکہ طور پر تیار کی ہیں۔
حکومت اب اس بات کا حتمی فیصلہ کرے گی کہ آیا یہ اسکیم چھوٹی گاڑیوں (800 سی سی تک) تک بھی بڑھائی جائے یا صرف 2 اور 3 پہیوں تک محدود رکھی جائے۔
اس نظام کے تحت فیول کی فراہمی مکمل طور پر موبائل ایپ کے ذریعے خودکار ہوگی۔ پیٹرول پمپس کے لیے ایک مفت ایپ فراہم کی جائے گی جبکہ صارفین کے لیے علیحدہ ایپ ہوگی۔ ہر پمپ پر کم از کم 2 موبائل فون رکھنا لازمی ہوگا تاکہ سسٹم مؤثر طریقے سے چل سکے۔
آئی ٹی وزارت موبائل فون بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ مخصوص فون فراہم کیے جا سکیں جن کی ابتدائی لاگت تقریباً 36 ہزار روپے اور مارکیٹ قیمت 72 ہزار روپے تک ہو سکتی ہے۔ پیٹرول پمپس کو یہ ڈیوائسز حاصل کرنے کے لیے حکومتی اکاؤنٹ میں رقم جمع کروانی ہوگی۔
مزید پڑھیے: تیل کے بحران پر قابو پانے کے لیے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے کونسے کام تجویز کیے؟
اس کوٹہ سسٹم میں گاڑی کا رجسٹریشن نمبر اور صارف کا قومی شناختی کارڈ ایپ سے منسلک ہوگا۔ صارف ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل واؤچر حاصل کرے گا جسے پیٹرول پمپ پر اسکین کیا جائے گا۔ اگر صارف کے پاس 15 لیٹر کا کوٹہ ہے اور وہ 20 لیٹر طلب کرے تو اسے صرف 15 لیٹر ہی فراہم کیا جائے گا۔
حکومت 2 اور 3 پہیوں کے لیے سبسڈی دے گی اور پیٹرول پمپس پر ان کے لیے مخصوص نوزلز مختص کیے جائیں گے۔ تاہم چار پہیوں والی گاڑیوں کے لیے سبسڈی دینے یا نہ دینے کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔
اس منصوبے کے مؤثر نفاذ کے لیے تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ہر پمپ پر فوکل پرسن مقرر کریں گی جن کی تفصیلات اوگرا کو فراہم کی جائیں گی تاکہ نظام کی نگرانی اور صارفین کی شکایات کا فوری ازالہ کیا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث صورتحال پیچیدہ ہو چکی ہے جس کی وجہ سے حکومت پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ صرف 2 ہفتوں تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے پر تقریباً 70 ارب روپے کا بوجھ پڑ چکا ہے۔
مزید پڑھیں: کیا تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے؟
یاد رہے کہ حکومت پہلے ہی موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کو ریلیف دینے کے لیے سبسڈی اسکیم پر کام کر رہی تھی تاکہ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔














